فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 2123
(619) غیر مسلموں کا ذبیحہ کھانا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 10 September 2012 11:18 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

آج کل میرے تایا زاد بھائی آئے ہوئے ہیں وہ سنگا پور کام کرتے ہیں ۔ انہوں نے مجھ سے چند ایک سوالات پوچھے لیکن میں ان کو مطمئن نہیں کر سکا لہٰذا اب آپ سے پوچھنے کی جسارت کر رہا ہوں

(1) غیر مسلموں کے ملک میں رہتے ہوں ان کا ذبیحہ کھانا کیسا ہے ؟ اب وہاں رہتے ہوئے گوشت کھانے کی ضرورت پڑ ہی جاتی ہے وہ لوگ جانور کو جھٹکے کے ساتھ بغیر تکبیر پڑھے حلال کرتے ہیں ایسی صورت میں کیا حکم ہے ؟

(2) ایک مسئلہ یہ پوچھا کہ سمندری جانوروں میں سے کون کون سے حلال ہیں ۔ میں نے جواب میں کہا کہ ’’مچھلی‘‘۔ اب وہ یہ بات بتاتے ہیں جو کہ میرے لیے حیرانگی کا باعث ہے ۔ ’’سمندری مچھلی دو طرح کی ہوتی ہے ایک وہ جو دودھ دے ، دوسری وہ جو دودھ نہ دے ۔ دودھ نہ دینے والی حلال ہے دوسری حرام  ہے‘‘۔ کیا یہ درست ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

(1)  غیر مسلموں سے اہل کتاب یہود ونصاریٰ کا ذبیحہ حلال ہے بشرطیکہ وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے نام پر ذبح کریں اور اگر مسیح u یا غیر اللہ کے نام پر ذبح کریں تو وہ حرام ہے خواہ غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے والا اپنے آپ کو مسلم ہی کہتا کہلاتا ہو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿ٱلۡيَوۡمَ أُحِلَّ لَكُمُ ٱلطَّيِّبَٰتُۖ وَطَعَامُ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ حِلّٞ لَّكُمۡ﴾--مائدة5

’’آج کے دن حلال کی گئیں واسطے تمہارے پاکیزہ چیزیں اورکھانا ان لوگوں کا کہ دئیے گئے ہیں کتاب حلال ہے واسطے تمہارے‘‘  نیز اللہ تعالیٰ کا ہی فرمان ہے :

﴿إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡكُمُ ٱلۡمَيۡتَةَ وَٱلدَّمَ وَلَحۡمَ ٱلۡخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ بِهِۦ لِغَيۡرِ ٱللَّهِۖ﴾--بقرة173

’’اس نے تو تم پر صرف مردار اور خون (جو بہتا ہو) اور سور کا گوشت اور وہ جانور جس پر اللہ کے سوا اور کسی کا نام پکارا جائے حرام کیا ہے‘‘ پھر اللہ تعالیٰ کا ہی فرمان ہے:

﴿وَلَا تَأۡكُلُواْ مِمَّا لَمۡ يُذۡكَرِ ٱسۡمُ ٱللَّهِ عَلَيۡهِ وَإِنَّهُۥ لَفِسۡقٞۗ﴾--انعام121

’’اور مت کھائو اس چیز سے کہ نہیں یاد کیا گیا نام اللہ کا اوپر اس کے اور تحقیق وہ البتہ گناہ ہے‘‘

جھٹکا ذبیحہ میں شامل نہیں خواہ تکبیر پڑھ کر ہی جھٹکا کیا گیا ہو حرام ہے غیر مسلموں کے ملک میں رہنا کتاب وسنت میں حرام کردہ چیز کو حلال نہیں کرتا کتاب وسنت پر عمل کرنا مسلموں کے نزدیک مقدم ہے غیر مسلموں کے ملک میں رہنا کتاب وسنت پر عمل کرنے پر مقدم نہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿إِنَّ ٱلَّذِينَ تَوَفَّىٰهُمُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ ظَالِمِيٓ أَنفُسِهِمۡ قَالُواْ فِيمَ كُنتُمۡۖ قَالُواْ كُنَّا مُسۡتَضۡعَفِينَ فِي ٱلۡأَرۡضِۚ قَالُوٓاْ أَلَمۡ تَكُنۡ أَرۡضُ ٱللَّهِ وَٰسِعَةٗ فَتُهَاجِرُواْ فِيهَاۚ﴾--النساء97

’’وہ لوگ کہ جن کی جان نکالتے ہیں فرشتے اس حالت میں کہ وہ برا کر رہے ہیں اپنا کہتے ہیں ان سے فرشتے تم کسی حال میں تھے وہ کہتے ہیں ہم تھے بے بس اس ملک میں کہتے ہیں فرشتے کیا نہ تھی زمین اللہ کی کشادہ جو چلے جاتے وطن چھوڑ کر وہاں‘‘

(2)۔ سمک ، حوت اور مچھلی حلال ہے مچھلی کی تمام اقسام وانواع حلال ہیں خواہ دودھ دینے والی مچھلیاں ہوں خواہ دودھ نہ دینے والی مچھلیاں سب حلال ہیں کسی جانور کا دودھ دینا اس کے حرام ہونے کی دلیل نہیں ورنہ گائے ، بکری ، بھیڑ اور اونٹنی کا حرام ہونا لازم آئے گا کیونکہ یہ بھی دودھ دیتی ہیں واللازم کما تری ۔ جو برّی جانور حلال ہیں وہ بحری بھی حلال ہیں مثلاً بحری گائے حلال ہے اسی طرح جو برّی جانور حرام ہیں وہ بحری بھی حرام ہیں مثلاً خنزیر بحری حرام ہے دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿وَلَحْمَ الْخِنْزِیْرِ﴾اس میں بَرّی کی تخصیص نہیں یہ بری وبحری دونوں کو متناول ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان :

﴿أُحِلَّتۡ لَكُم بَهِيمَةُ ٱلۡأَنۡعَٰمِ إِلَّا مَا يُتۡلَىٰ عَلَيۡكُمۡ﴾--مائدة1

’’چارپائے چرنے والے جانور تمہارے لیے حلال ہیں مگر جو (آگے) تم کو پڑھ کر سنائے جائیں گے‘‘ بحری وبری انعام دونوں کو شامل ہے۔

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

کھانے پینے کے احکام ج1ص 445

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)