فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 21083
(301) ایک معاشرتی مسئلہ
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 13 April 2017 09:21 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک آدمی دو بیٹیوں کی شادی کر کے فوت ہو جاتا ہے، جبکہ باقی اولاد کے لیے اٹھنے والے اخراجات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب کیا باقی اولاد کی ضروریات و اخراجات منہا کر کے اس کی جائیداد تقسیم کی جائے؟ قرآن و حدیث کے مطابق اس مسئلہ کا کیا حل ہے، آخر باقی اولاد کی شادی وغیرہ کرنا پڑتی ہے، وہ اخراجات کہاں سے پوری کیے جائیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ تعالٰی کا اپنے بندوں پر احسان ہے کہ وہ اسے صاحب اولاد کر دے، صاحب اولاد ہونے کے بعد انسان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی ضروریات کا خیال رکھے اور انہیں کسی صورت میں ضائع نہ کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: "انسان کو یہی گناہ کافی ہے کہ وہ جس کی کفالت کرتا ہے اسے ضائع کر دے۔" (ابوداؤد،الزکوۃ:1692)

اسی طرح ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے پاس ایک دینار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اپنے آپ پر خرچ کر، پھر عرض کیا، میرے پاس ایک دوسرا دینار بھی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اپنے بچے پر خرچ کر۔ (نسائی،الزکوۃ:2536)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو خصوصی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا: "اپنے اہل و عیال پر اپنی آمدنی کے مطابق خرچ کرتے رہو، ان کی تربیت کے لئے چھڑی تیار رکھو اور انہیں اللہ کے عذاب سے ڈراتے رہو۔" (مسند امام احمد،ص239،ج5)

ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو اپنی اولاد کی ضروریات کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے، اس کے علاوہ ان میں عدل و انصاف کرنے کا بھی حکم ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: 'اللہ سے ڈرو اور اپنے بچوں میں عدل کرو۔" (صحیح البخاری،الھبۃ:2587)

جس بچے کو جتنی ضرورت ہے اسے پورا کرنا باپ کا اولین فرض ہے۔ ضروریات کو پورا کرنے میں مساوات کو برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہے۔  کیونکہ ایک بچہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرتا ہے تو اس کی ضروریات اور شیر خوار بچے کی ضروریات ایک جیسی نہیں ہیں، البتہ ضروریات کے علاوہ تحفے تحائف اور محبت و پیار میں عدل و انصاف اور مساوات رکھنا ضروری ہے۔ ہر باپ اپنی زندگی میں اولاد کی ضروریات کا خیال رکھتا ہے، ان کے کھانے پینے، لباس اور رہنے سہنے کا بندوبست کرتا ہے، اسی طرح ان کی شادی پر اٹھنے والے اخراجات بھی برداشت کرتا ہے، اولاد بھی جو کچھ کماتی ہے وہ باپ کے حوالے کر دیتی ہے۔ اسی طرح مل جل کر زندگی کی گاڑی چلتی رہتی ہے لیکن جب والد فوت ہو جاتا ہے تو اس پر اولاد کی ضروریات کو پورا کرنے کی ذمہ داری بھی ختم ہو جاتی ہے اور اس کا ترکہ تمام اولاد اور شرعی ورثاء کا مال بن جاتا ہے۔ اس کے ترکہ سے انسان کی ذاتی ضروریات مثلا کفن و دفن، قرض کی ادائیگی وغیرہ تو منہا کی جا سکتی ہے لیکن دوسری ضروریات کے لئے کچھ رقم الگ رکھ لینا شرعا جائز نہیں ہے۔ حتیٰ کہ اس کے مرنے کے بعد بچوں پر اٹھنے والے اخراجات بھی منہا کرنا جائز نہیں۔ ویسے تو ہمارے ہاں ایسا ہوتا ہے کہ سربراہ خانہ کے فوت ہونے کے بعد اس کا ترکہ اس کی بیوہ اور بال بچوں کا ہوتا ہے۔ اس لیے تقسیم کرنے کی نوبت نہیں آتی بلکہ مشترکہ طور پر تمام ضروریات پوری کی جاتی ہیں لیکن اگر کوئی وارث (بیٹا یا بیٹی) اپنا حصہ لینے کا تقاضا کرتا ہے تو اسے اس کا حصہ ضرور دینا چاہئے۔

صورت مسئولہ میں ہمارا رجحان یہ ہے کہ انسان کے مرنے کے بعد جو بچے غیر شادی شدہ ہیں، ان کے اخراجات ترکہ سے منہا کرنے کی چنداں ضرورت نہیں اور ایسا کرنا شرعا جائز بھی نہیں۔ چنانچہ حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی بیوی، اپنی دو بچیوں کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: "یا رسول اللہ! یہ دونوں بچیاں سعد بن ربیع کی بیٹیاں ہیں اور ان کا باپ آپ کے ہمراہ غزوہ اُحد میں شہید ہو گیا ہے اور اس کے بھائی یعنی بیٹیوں کے چچا نے سعد کا سارا مال اپنے قبضہ میں لے لیا ہے جبکہ بیٹیوں کا نکاح مال کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے متعلق اللہ ضرور کوئی فیصلہ کرے گا چنانچہ اس کے پس منظر میں آیت میراث نازل ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چچا کی طرف پیغام بھیجا اور اسے فرمایا کہ سعد کی بیٹیوں کو 3/2، ان کی ماں کو 8/1 دو۔ اور جو باقی بچے وہ تیرا ہے۔ (ترمذی،الفرائض:2092)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بیٹیوں کی شادی پر اخراجات ہوتے ہیں کیونکہ سعد کی بیوی نے کہا تھا کہ مال کے بغیر بچیوں کا نکاح نہیں ہو سکتا، چنانچہ ایک روایت میں ہے: سعد کی بیوی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مال کے بغیر عورت کا نکاح نہیں ہوتا۔" (ابن ماجہ،الفرائض:2720)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا انکار نہیں فرمایا، یہ نہیں کہا کہ شادی پر خرچ کرنے کی ضرورت نہیں اور تم فی سبیل اللہ کسی سے ان کا نکاح کر دو، بلکہ آپ نے خاموش رہ کر اس کی تائید فرمائی۔

اس حدیث سے صورت مسئولہ کا حل بھی معلوم ہوا کہ بچوں کی شادی پر اٹھنے والے اخراجات ترکہ سے منہا نہیں کیے جائیں گے بلکہ ان کا پورا حصہ نہیں دیا جائے گا۔ قرآن کریم میں بھی اس کا اشارہ ملتا ہے کہ اللہ تعالٰی نے بچے کو دودھ پلانے کے اخراجات باپ کے ذمے ڈالے ہیں، اس ضمن میں فرمایا: "وارث پر بھی اس جیسی ذمہ داری ہے۔" (البقرۃ:233)

یعنی باپ کے فوت ہو جانے کے بعد اخراجات برداشت کرنے کی ذمہ داری اس کے وارثوں کی ہے اور یہ بچہ بھی ان وارثوں میں سے ہے، اس لیے ترکہ سے اخراجات منہا نہیں کیے جائیں گے۔ لہذا باپ اپنی زندگی میں اولاد کے اخراجات برداشت کرنے کا پابند تھا، مرنے کے بعد دیگر شرعی پابندیوں کے ساتھ بچوں کی شادی پر اٹھنے والے اخراجات کی پابندی بھی اس سے اٹھا لی گئی ہے، اس لیے تقدیر پر راضی رہتے ہوئے اس کے ترکہ کے ساتھ شریعت کے مطابق معاملہ کیا جائے، اس کے علاوہ کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے۔ (واللہ اعلم)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد4۔صفحہ نمبر 278

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)