فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 21082
(300) بیٹیوں کو جہیز دینے کے بہانے وراثت سے محروم کرنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 13 April 2017 09:20 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے دادا نے مرنے سے پہلے وصیت نامہ لکھا کہ میں نے اپنی بیٹیوں کو جہیز کی صورت میں ان کا حق دے دیا ہے، لہذا وہ میری جائیداد سے کچھ لینے کا حق نہیں رکھتیں، کیا ایسی وصیت پر عمل کیا جا سکتا ہے؟ اگر نہیں تو کیا اس کی اصلاح ہو سکتی ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

چند شرائط کے ساتھ بیٹیوں کو جہیز دینے میں کوئی حرج نہیں، محدثین نے باقاعدہ جہیز کے متعلق کتب حدیث میں عنوان بندی کی ہے، لیکن ہمارے ہاں یہ رسم رائج ہے کہ بیٹیوں کو جہیز دے کر انہیں جائیداد سے محروم کر دیا جاتا ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کردہ وصیت نامے سے معلوم ہوتا ہے ایسا کرنا شرعا جائز نہیں۔ دور جاہلیت میں بھی بیٹیوں کو جائیداد سے محروم کیا جاتا تھا لیکن وہ لوگ اس محرومی کو کسی اور سبب کے ساتھ مربوط کرتے تھے لیکن اس روشن خیالی کے دور میں بھی جہیز کی آڑ میں بیٹیوں، بہنوں کو جائیداد سے محروم کیا جاتا ہے۔ حالانکہ ارشاد باری تعالٰی ہے: "ماں، باپ اور خویش و اقارب کے ترکہ میں مردوں کا حصہ بھی ہے اور عورتوں کا بھی، خواہ وہ مال کم ہو یا زیادہ، اس میں ہر ایک حصہ مقرر کیا ہوا ہے۔"( النساء:7)

اسلام سے قبل ایک یہ بھی ظلم روا رکھا جاتا تھا کہ عورتوں اور چھوٹے بچوں کو وراثت سے حصہ نہیں دیا جاتا تھا اور صرف بڑے لڑکے جو میدان جنگ میں لڑنے کے قابل ہوتے، سارے مال کے وارث قرار پاتے تھے۔ اس آیت میں اللہ تعالٰٰ نے مردوں کی طرح عورتوں اور چھوٹے بچوں کو بھی والدین اور رشتہ داروں کے مال میں حسے دار قرار دیا ہے۔ انہیں کسی صورت میں محروم نہیں کیا جائے گا۔ صورت مسئولہ میں بیٹیوں کو جہیز کی آڑ میں جہیز سے محروم کیا گیا ہے جو شرعا حرام اور ناجائز ہے۔ ایس وصیت نامہ قطعا ناقابل عمل ہے، یہ وصیت نامہ کوئی پتھر کی لکیر نہیں کہ اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کی اصلاح کرنا ضروری ہے۔ ارشاد باری تعالٰی ہے:

"ہاں جو شخص وصیت کرنے والے کی جانب داری یا طرفداری کا اندیشہ رکھے تو ان میں اصلاح کروا دے، ایسے حالات میں اس پر کوئی گناہ نہیں، اللہ تعالٰی بخشنے والا، مہربان ہے۔" (البقرۃ:182) اس آیت کے پیش نظر غلط وصیت نامے کی اصلاح ضروری ہے جس کی یہ صورت ہے کہ اس وصیت نامے سے اس شق کو حذف کر دیا جائے، اگر بزرگ فوت ہو جائے تو شریعت کے مطابق انہیں ان کا حصہ دیا جائے۔ (واللہ اعلم)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد4۔صفحہ نمبر 278

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)