فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 21081
(299) وراثت کا ایک مسئلہ
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 13 April 2017 09:18 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے والد محترم فوت ہو گئے ہیں، پسماندگان میں ان کی بیوہ، تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں، مجموعی طور پر ان کا ترکہ چھتیس لاکھ کے لگ بھگ ہے، اس جائیداد کو مذکورہ ورثاء میں تقسیم کیا جائے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب آدمی فوت ہوتا ہے تو ترکہ تقسیم کرنے سے پہلے تین قسم کے حقوق کو ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔

(1) اس کی تجہیز و تکفین اور تدفین پر اٹھنے والے اخراجات اس کے ترکہ سے ادا کیے جائیں۔ (2) اس کے ذمے جو مالی واجبات یعنی قرض وغیرہ ہو اسے ادا کیا جائے۔ (3) جائز حد تک اس کی جائز وصیت کو اس کے ترکہ سے پورا کیا جا سکتا ہے۔ ان حقوق کی ادائیگی کے بعد ترکہ تقسیم کرنا چاہئے۔ صورت مسئولہ میں بیوہ کے لئے آٹھواں حصہ ہے کیونکہ مرحوم کی اولاد موجود ہے، ارشاد باری تعالٰی ہے: "اور اگر تمہاری اولاد ہے تو ان بیویوں کو تمہارے ترکہ کا آٹھواں حصہ ملے گا۔" (النساء:12)

بیوہ کا حصہ نکالنے کے بعد جو باقی بچے وہ اس کی اولاد میں اس طرح تقسیم کیا جائے کہ لڑکے کو لڑکی سے دوگنا ملے، ارشاد باری تعالٰی ہے: "اللہ تعالٰی تمہیں، تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔" (النساء:11)

بیوہ کا حصہ نکالنے کے بع جو باقی بچے وہ اس کی اولاد میں اس طرح تقسیم کیا جائے کہ لڑکے کو لڑکی سے دوگنا ملے، ارشاد باری تعالٰی ہے: "اللہ تعالٰی تمہیں، تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔" (النساء:11)

سہولت کے پیش نظر مذکورہ بالا حقوق کی ادائیگی کے بعد باقی ترکہ کے 72 حصے کر لیے جائیں، ان میں سے آٹھواں حصہ یعنی نو حصے بیوہ کو پھر چودہ حصے ایک لڑکے کو اور سات حصے ایک لڑکی کو دیے جائیں، چونکہ قابل تقسیم ترکہ چھتیس لاکھ ہے۔ اسے جب بہتر (72) پر تقسیم کیا تو ایک حصہ پچاس ہزار بنتا ہے، لہذا اس کی تقسیم حسب ذیل ہو گی:

بیوہ: 9*50,000

ایک لڑکا: 14*50,000=7,00,000

ایک لڑکی: 7*50,000=3,50,000

پڑتال: بیوہ کا حصہ: 9*50,000=4,50,000

3 لڑکوں کا حصہ: 3*7,00,000=21,00,000

3 لڑکیوں کا حصہ: 3*3,50,000=10,50,000

میزان: 36,00,000 چھتیس لاکھ روپیہ

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد4۔صفحہ نمبر 277

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)