فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 21080
(298) مسئلہ وراثت۔9
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 13 April 2017 09:17 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

صابر بٹ نامی ایک شخص فوت ہوا، اس کی تین بیٹیاں اور تین بھتیجے موجود ہیں، اس کے ذمہ ایک لاکھ روپیہ کاروباری قرضہ ہے جبکہ اس کی جائیداد دس لاکھ کی مالیت رکھتی ہے، اس کی شرعی تقسیم کیسے ہو گی؟ کتاب و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

میت کی مال میں سے پہلے کفن و دفن کے اخراجات منہا کیے جائیں پھر قرض کی ادائیگی ہونی چاہئے، اس کے بعد مال کی تہائی حصے سے وصیت پوری کی جائے بشرطیکہ کسی وارث کے لئے یا ناجائز کام کے لیے نہ ہو، پھر باقی ماندہ ترکہ کو ورثاء میں تقسیم کیا جائے۔صورت مسئولہ میں میت کی جائیداد دس لاکھ ہے اور ایک لاکھ روپیہ اس کے ذمے قرضہ ہے، قرض کی ادائیگی کے بعد نو لاکھ روپیہ قابل تقسیم ہے، اس میں سے دو تہائی بیٹیوں کے لئے جو چھ لاکھ بنتا ہے، اس سے ہر بیٹی کو دو دو لاکھ روپیہ دیا جائے، ارشاد باری تعالٰی ہے:

"اور اگر مونث اولاد دو سے زائد ہوں تو ان کے لئے اس کے ترکہ سے دو تہائی ہے۔" (النساء:11)

اور باقی تین لاکھ اس کے تین بھتیجوں کے لئے ہے، ہر بھتیجے کو ایک ایک لاکھ روپیہ دیا جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

"مقررہ حصہ لینے والوں کو ان کا حصہ دینے کے بعد باقی ترکہ میت کے مذکر قریبی رشتہ داروں کو دیا جائے۔" (صحیح بخاری،الفرائض:6732)

حصص کی تقسیم حسب ذیل ہو گی:

میت/9   بیٹی:2   بیٹی:2    بیٹی:2   بھتیجا:1      بھتیجا:1   بھتیجا:1

پڑتال: دولاکھ +دولاکھ+دولاکھ+ایک لاکھ+ایک لاکھ+ایک لاکھ + ایک لاکھ= نو لاکھ (واللہ اعلم)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد4۔صفحہ نمبر 276

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)