فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 21078
(296) تقسیم ترکہ کے دو مسائل
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 13 April 2017 09:14 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قرآن و سنت کی روشنی میں درج ذیل صورتوں میں تقسیم ترکہ کیسے ہو گا؟ (الف) اگر ورثاء میں بیوی، والدین اور تین بھائی ہوں، (ب) اگر ورثاء میں خاوند، ماں، باپ، دو بھائی اور تین بہنیں ہوں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بشرط صحت سوال واضح ہو کہ انسان کے فوت ہونے کے بعد سب سے پہلے اس کے ترکہ سے اس کی تجہیز و تکفین اور تدفین کی جائے، پھر قرضوں کی ادائیگی کا مرحلہ آتا ہے، اس کے بعد وصیت کا نفاذ کا درجہ ہے، بشرطیکہ وصیت کسی حصہ لینے والے وارث اور ناجائز کام کے لئے نہ ہو، اس کے علاوہ کسی صورت میں 1/3 سے زائد نہ ہو، ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد ترکہ تقسیم کیا جاتا ہے، اس وضاحت کے بعد سوال میں ذکر کردہ صورتوں کے متعلق تقسیم ترکہ حسب ذیل طریقہ کے مطابق ہو گا۔

(الف) چونکہ مرحوم کی اولاد نہیں ہے اس لیے بیوی کو کل ترکہ سے ¼ حصہ دیا جائے گا، ارشاد باری تعالٰی ہے: "اگر تمہاری اولاد نہ ہو تو بیویوں کو تمہارے ترکہ سے ¼ ملتا ہے۔" (النساء:12) ان دونوں کا حصہ نکال کر باقی باپ کو دیا جائے کیونکہ اس صورت میں اگرچہ بھائی بھی عصبہ ہیں لیکن باپ کا درجہ قریب تر ہے، اس لیے باپ کی موجودگی میں بہن بھائی محروم ہوں گے، اب بیوی کا ¼+ ماں کا =1/6 5/12باقی 12/7 باپ کا ہے، تفصیلی تقسیم اس طرح ہو گی:

بیوی: ¼                   ماں: 1/6                باپ: 7/12            تین بھائی محروم

سہولت کے پیش نظر کل جائیداد کے 12 حصے کر لیے جائیں، ان میں 3 بیوی کو 2 ماں کو ور 7 باپ کو دے دیے جائیں، اس صورت میں 3 بھائی محروم ہیں، ان کو اپنے بھائی کے ترکہ سے کچھ نہیں ملے گا۔ (واللہ اعلم)

(ب) چونکہ مرحومہ کی اولاد نہیں ہے، اس لیے خاوند کو ½ دیا جائے گا، ارشاد باری تعالٰی ہے: "اگر بیویوں کو اولاد نہیں ہے تو تمہیں ان کے ترکہ سے ½ دیا جائے گا۔" (النساء:12) مرحومہ کے دو بھائی اور تین بہنیں موجود ہیں، ان کے ہوتے ہوئے ماں کا حصہ کم ہو کر 1/6 رہ جاتا ہے، ارشاد باری تعالٰی ہے: "اگر میت کے متعدد بہن بھائی ہوں تو ماں کو چھٹا حصہ ملتا ہے۔" (النساء:11)

لیکن بہن بھائی محروم ہوں گے البتہ وہ ماں کے حصے پر اثر انداز ہوں گے، پھر خاوند اور ماں کا حصہ نکال کر باقی ترکہ باپ کو دیا جائے گا کیونکہ اولاد کی عدم موجودگی میں وہ عصبہ بنتا ہے اور باقی ترکہ کا حقدار ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالٰی ہے: "اگر میت کی اولاد نہیں ہے تو اس کے ترکہ کے وارث اس کے والدین ہیں۔" (النساء:11)

مرحومہ کے دو بھائی اور تین بہنیں ہیں لیکن باپ کی موجودگی میں انہیں کچھ نہیں ملے گا۔

جیسا کہ سورۃ النساء آیت نمبر 178 سے اشارہ ملتا ہے، اب خاوند کا حصہ کا ½ + ماں کا حصہ 6/1=3/2 باقی 3/1 باپ کا ہے، تفصیلی تقسیم اس طرح ہے۔ خاوند: 2/1                ماں: 6/1                باپ:3/1

کل جائیداد کے 6 حصے کر لیے جائیں 3 خاوند کو، ایک ماں کو اور 2 باپ کو دے دیے جائیں، بہن بھائی والدین کی موجودگی میں محروم ہیں۔ (واللہ اعلم)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد4۔صفحہ نمبر 275

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)