فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 21077
(295) وراثت کا ایک سوال
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 13 April 2017 09:13 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرا بھائی فوت ہوا ہے، پسماندگان میں سے بیوہ، ایک بیٹی، والدین اور ایک خود میں اس کا بھائی ہوں، اس کی جائیداد کیسے تقسیم ہو گی، کیا مجھے اس کے ترکہ سے کچھ ملے گا، واضح رہے کہ اس کے ذمہ کچھ قرضہ بھی ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بشرط صحت سوال واضح ہے کہ کسی کی وفات کے بعد اس کا ترکہ تقسیم کرنے سے پہلے اس کے ذمے قرضہ ادا کیا جاتا ہے، قرآن کریم کا یہی حکم ہے، اس کے بعد اگر وصیت کی ہے تو ایک تہائی تک اسے پورا کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ وصیت کسی شرعی وارث کے نام اور غیر شرعی کام کے لیے نہ ہو، اس کے بعد جو باقی بچے اسے ورثاء میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ صورت مسئولہ میں پہلے مرحوم کے ذمے قرضہ کو اتارا جائے گا پھر باقی ماندہ ترکہ کے چوبیس حصے کیے جائیں، جن میں سے 1/8 یعنی تین حصے بیوہ کے لیے، نصف یعنی بارہ حصے بیٹی کے لیے 1/5 یعنی چار حصے باپ کے اور 1/6 چار حصے ہی ماں کے ہیں، باقی ایک حصہ بھی باپ کو بطور عصبہ دے دیا جائے، بھائی کو اس کی جائیداد سے کچھ نہیں ملے گا کیونکہ میت کی اصل اور فرع کی موجودگی میں بھائی محروم ہوتے ہیں۔ (واللہ اعلم)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد4۔صفحہ نمبر 274

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)