فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 21075
(293) مسئلہ وراثت۔7
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 13 April 2017 09:10 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے والد محترم دو سال قبل وفات پا گئے تھے، پسماندگان میں سے ہم چار بھائی، ایک بہن اور والدہ زندہ ہیں، ہمارے والد نے اپنی سمجھ کے مطابق ہم سب بہن بھائیوں اور والدہ کے نام پلاٹ یا مکان لگوا دیے تھے، وفات کے بعد ہم نے کوئی تقسیم نہیں کی، کاروبار بھی مشترکہ طور پر چلتا رہا، اب ہمیں کاروبار میں کافی نقصان ہوا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ تقسیم کے مرحلہ سے گزرنے کے بعد ہم اپنا کاروبار بھی تقسیم کر لیں، اس سلسلہ میں ہماری راہنمائی فرمائیں کہ کس کو کتنا حصہ ملے گا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سوال کا جواب دینے سے قبل ہم اس امر کی وضاحت کرنا ضروری خیال کرتے ہیں کہ اپنی زندگی میں کوئی شخص بھی اپنی جائیداد بطور وراثت تقسیم کرنے کا مجاز نہیں ہے اور نہ کوئی لڑکا یا لڑکی اپنے وراثتی حصے کا مطالبہ کر سکتا ہے کیونکہ وراثت کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ انسان کی وفات ہو جائے اور حصہ لینے والا اس کی وفات کے وقت زندہ موجود ہو، جو مورث کی وفات سے پہلے فوت ہو چکا ہے۔ اس کا وراثتی حصہ خود بخود ختم ہو جاتا ہے، اس وضاحت کے بعد ہم اصل سوال پر غور کرتے ہیں، فوت ہونے والے بزرگ نے اپنی زندگی میں جو وراثتی حصے بصورت پلاٹ یا مکان اپنی اولاد یا بیوی کے نام لگوائے تھے وہ شرعا ناجائز ہیں، وہ اپنی زندگی میں اولاد اور اپنی بیوی کی ضروریات کو پورا کرنے کے پابند تھے، اس سے آگے بڑھ کر بطور وراثت اولاد کے نام پلاٹ خریدنا یا بیوی کے نام مکان لگوانا اپنے اختیارات سے تجاوز کرنا ہے، اب اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ جو جو پلاٹ یا مکان کسی کے نام لگوائے گئے ہیں ان سب کو ایک کر دیا جائے اور کاروبار سے جو منافع حاصل ہوا ہے، اسے بھی اصل جائیداد میں شامل کر لیا جائے اور کاروبار میں جو نقصان ہوا ہے وہ بھی مشترکہ طور پر کاروبار پر تقسیم کر دیا جائے، اگر کاروباری قرضہ ہے تو وہ بھی اس چالو کاروبار سے ادا کیا جائے، باقی چالو کاروبار اور اس سے حاصل شدہ منافع کے بہتر (72) حصے کر لے جائیں پھر ان سے آٹھواں حصہ (9*8=72) بیوہ کو دیا جائے، ارشاد باری تعالٰی ہے:"اگر مرنے والے کی اولاد ہے تو کل ترکہ سے بیویوں کو آٹھوان حصہ دیا جائے۔ (النساء:12)

ان بہتر حصوں سے نو حصے نکالنے کے بعد جو باقی تریسٹھ حصوں کو اس طرح تقسیم کیا جائے کہ ایک لڑکے کو لڑکی کی نسبت دوگنا حصہ ملے، ارشاد باری تعالٰی ہے: "اللہ تعالٰی تمہیں اولاد کے متعلق حکم دیتا ہے کہ لڑکے کو لڑکی سے دوگنا دیا جائے۔" (النساء:12)

اس طرح لڑکی کو سات حصے اور ہر لڑکے کو چودہ، چودہ حصے دیے جائیں، حدیث میں ہے کہ مقررہ حصہ لینے والوں کا حصہ نکال کر باقی جائیداد میت کے قریبی رشتہ داروں کو دی جائے اور بیوی کا مقررہ حصہ نکالنے کے بعد قریبی رشتہ دار اس کی اولاد ہے، لہذا مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق اسے تقسیم کر لیا جائے۔ (واللہ اعلم)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد4۔صفحہ نمبر 273

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)