فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 21074
(292) مسئلہ وراثت۔6
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 13 April 2017 09:08 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک آدمی فوت ہوا، اس کی بیوی، والد، چار بیٹے، تین بیٹیاں، ایک بہن اور دو بھائی زندہ ہیں، ان ورثاء میں ترکہ کیسے تقسیم ہو گا، قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت کریں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کفن و دفن کے اخراجات، قرض کی ادائیگی اور وصیت کے نفاذ کے بعد باقی ترکہ قابل تقسیم ہوتا ہے، بشرط صحت سوال مذکورہ صورت میں بیوہ کو آٹھواں حصہ دیا جائے، ارشاد باری تعالٰی ہے: "اور اگر تمہاری اولاد ہو تو پھر ان بیویوں کو تمہارے ترکہ سے آٹھواں حصہ ملے گا۔" (النساء:12) چونکہ میت کی اولاد ہے اس لیے باپ کو چھٹا حصہ دیا جائے گا، ارشاد باری تعالٰی ہے: "میت کے والدین میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے بشرطیکہ اس کی اولاد ہو۔" (النساء:11)

میت کی بیوی اور والد کا حصہ نکالنے کے بعد جو باقی بچے گا وہ اس کی اولاد میں اس طرح تقسیم کیا جائے کہ لڑکے کو لڑکی کے مقابلہ میں دوگنا ملے، حدیث میں ہے: "مقررہ حصہ لینے والوں کا حصہ نکال کر جو باقی بچے وہ میت کے قریبی مذکر رشتہ دار کے لیے ہے۔" (بخاری،الفرائض:6735)

میت کے قریبی رشتہ دار اس کی اولاد ہے، اس لیے ان کی موجودگی میں بہن اور بھائی محروم قرار پائیں گے، بیٹے کے ساتھ بیٹیاں بھی ہیں، اس لیے انہیں بھی حصہ میں شریک کیا جائے، ارشاد باری تعالٰی ہے: "اللہ تعالٰی تمہیں تمہاری اولاد کے متعلق وصیت کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔" (النساء:11)

سہولت کے پیش نظر ترکہ کے چوبیس حصے کر لیے جائیں، ان میں آٹھواں یعنی تین حصے بیوہ کے لیے، چھٹا یعنی چار حصے والد کے لیے اور باقی سترہ حصے اس کی اولاد کے لیے ہیں، چونکہ سترہ حصے چار بیٹوں اور تین بیٹیوں میں پورے تقسیم نہیں ہو سکتے اس لیے حصوں کو بڑھا دیا جائے تاکہ تقسیم پوری ہو جائے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک لڑکا دو لڑکیوں کے برابر ہے اس لیے 2*4=8+3=11 حصوں کو چوبیس سے ضرب دینے پر 264 حصے بنتے ہیں، اب اس بنیادی ہندسہ (264) کو سامنے رکھتے ہوئے حصے تقسیم کر دیے جائیں، ایک لڑکے کو 34 ایک لڑکی کو 17، بیوہ کو 33 اور والد کو 44 حصے دیے جائیں۔ اب چار لڑکوں کے مجموعہ حصص 34*4=136، تین لڑکیوں کے مجموعی حصص 3*17=51، بیوہ کا حصہ 33، والد کا حصہ 44، انہیں جمع کرنے سے 264 بنیادی ہندسہ حاصل ہوتا ہے۔ (واللہ اعلم)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد4۔صفحہ نمبر 272

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)