فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 209
جوانی کا عرصہ کتنا ہوتا ہے
شروع از بتاریخ : 06 December 2011 11:02 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ سات قسم کے لوگ قیامت کے دن اللہ کے عرش کے سائے میں ہوں گے جس دن اللہ کے عرش کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ان خوش نصیبوں میں سے ایک وہ ہے جو جوانی میں اللہ کی عبادت کرتا ہے تو میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ جوانی کا عرصہ کتنا ہوتا ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس بارے اہل لغت کا اختلاف ہے کہ شباب کی عمر کب سے کب تک ہے بہرحال معروف قول کے مطابق شباب یا جوانی کی عمر بلوغت سے ۳۰ یا ۳۲ سال تک کی ہے۔ یہ قول ابن اثیر اور شیخ صالح العثیمین رحمہما اللہ کا ہے۔ اور اس کے بعد کہولت کی عمر ہے جو ۴۰ سال یا ایک دوسرے قول کے مطابق ۵۰ سال تک ہے اور اس کے بعد بڑھاپا ہے۔

محمد بن حبیب رحمہ اللہ کا کہنا یہ ہے کہ ولادت سے ۱۷ سال تک غلام ہے اور اس کے بعد ۱۸ سے ۵۱ سال تک شباب ہے اور اس کے بعد بڑھاپا ہے۔

ھذا ما عندی واللہ أعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)