فتاویٰ جات: عقیدہ و منہج
فتویٰ نمبر : 20788
(6) مشرک کے لئے دعائے مغفرت
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 10 April 2017 01:43 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرا باپ شرک کی حالت میں فوت ہوا ہے، کیا اس کے لئے مغفرت کی دعا کی جا سکتی ہے؟ قرآن و حدیث کے حوالے سے فتویٰ درکار ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مشرک اگر زندہ ہو تو اس کی رشد و ہدایت کے لئے دعا کرنا سنت سے ثابت ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ دوس کے لئے ہدایت کی دعا کی تھی جبکہ وہ اس وقت مشرک تھا۔ (صحیح البخاری،الدعوات:6397)

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث پر بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے: "مشرکین کے لئے دعا کرنا۔" (صحیح البخاری،الدعوات باب 59)

لیکن مرنے کے بعد مشرکین کے لئے مغفرت کی دعا کرنا جائز نہیں ہے۔ ارشاد باری تعالٰی ہے: (ترجمہ)

"نبی اور اہل ایمان کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ مشرکین کے لئے مغفرت کی دعا کریں اگرچہ وہ قرابت دار ہی ہوں جب کہ ان پر واضح ہو چکا ہے کہ وہ جہنمی ہیں۔" (التوبۃ:133)

ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اللہ تعالٰی سے اپنی ماں کے لئے بخشش کی دعا کرنے کی اجازت طلب کی تو اس نے مجھے اجازت نہ دی پھر میں نے اللہ تعالٰی سے ان کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت مانگی تو اس نے مجھے اجازت دے دی۔" (صحیح مسلم،الجنائز:2258)

اس قرآنی آیت اور ارشادنبوی کی روشنی میں ہم کہتے ہیں کہ مشرک والدین کے لئے مغفرت کی دعا کرنا جائز نہیں ہے، البتہ ان کی زندگی میں اللہ تعالٰی سے ان کی رشد و ہدایت کے لئے دعا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ (واللہ اعلم)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد4۔صفحہ نمبر 46

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)