فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 20782
(612) جانوروں کی پیوندکاری کرنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 10 April 2017 10:57 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

آج کل جانوروں کی پیوند کاری کی جاتی ہے جس طرح گھوڑے کی ایک نسل کی دوسری نسل کے اختلاط سے خچر تخلیق کی گئی ہے۔ اس طرح ایک بھیانک اور ناپاک درندے خنزیر کے اختلاط سے گائے کی ایک نسل پیدا کی گئی ہے چونکہ مذکورہ گائے دودھ بہت دیتی ہے اس لیے عوام الناس میں کافی مقبول ہو رہی ہے کیا یہ حقیقت پر مبنی ہے اگر صحیح ہے تو کیا اس طرح کے جانور کا دودھ گوشت حلال ہے؟ کتاب و سنت کی روشنی میں جواب دیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگرچہ اس سوال کا تعلق جدید سائنس سے ہے۔ کتاب و سنت سے نہیں ہمارے ہاں یہ المیہ ہے کہ جو حضرات کتاب و سنت کے حاملین ہیں وہ جدید سائنس  کے متعلق معمولی سی معلومات رکھتا ہے تاہم اس سوال کے حوالہ سے میں نے محکمہ لائیوسٹک کے عملہ سے رابطہ کیا۔ ماہرین سائنس سے بھی معلومات حاصل کی ہیں ۔ ان معلومات کو قرآن و حدیث کی روشنی میں قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے۔ قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز کو جوڑا پیدا کیا گیا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

﴿وَمِن كُلِّ شَىءٍ خَلَقنا زَوجَينِ لَعَلَّكُم تَذَكَّرونَ ﴿٤٩﴾... سورة الذاريات

"اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے پیدا کر دئیے ہیں شاید تم سبق حاصل کرو۔"

اس آیت کے کئی ایک مفہوم بیان کیے جاتے ہیں ہمارے رجحان کے مطابق درج ذیل مفہوم قرین قیاس ہے زوجین سے مراد نر اور مادہ ہے ہر نر مادہ کا زوج ہے اور ہر مادہ نر کا زوج ہے۔ جانداروں میں ایک دوسرے کا زوج تو سب کے مشاہدہ میں آچکا ہے۔ نباتات میں بھی یہ سلسلہ قائم ہے۔ بار برادری ہوائیں نر درختوں کا تخم مادہ پر ڈال دیتی ہیں تو انہیں پھل لگتا ہے جس علاقے میں کھجوریں زیادہ ہوتی ہیں وہاں کے باشندے خود نر کھجوروں کا تخم مادہ کھجوروں پر ڈال دیتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی مدینہ طیبہ  تشریف آوری کے موقع پر اہل مدینہ کھجوروں پر یہی عمل کرتے تھے جس سے آپ نے منع فرمایا تو اگلے سال پھل بہت کم ہوا۔ اس کے بعد آپ نے اس کی اجازت دے دی شرعی اصطلاح میں اس عمل کو"تابیر نخل "کہا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ کسی مقام پر تن تنہا درخت پھل نہیں لاتا ۔ جدید تحقیق کے مطابق یہ سلسلہ جمادات میں بھی پایا جاتا ہے۔ بجلی نیوٹل اور فیس ہونا ایک حقیر ذرہ میں الیکٹرون اور پروٹون کا مثبت اور منفی ہونا انسان کے علم میں آچکا ہے جمادات تو کیا کائنات کی ہر چیز ذرات ہی کا مجموعہ ہوتی ہے اس نر مادہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ سلسلہ چلایا کہ ان دونوں نر ومادہ کےملاپ سے ایک تیسری چیزوجود میں آتی ہے۔ جس میں اصل نر و مادہ کے خواص موجود ہوتے ہیں اسے سائنسی اصطلاح میں اس طرح تعبیر کیا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی ہر جاندارکی نسل باقی رکھنے اور اس سلسلہ کو آگے بڑھانے کا ایک نظام بنا رکھا ہے اس نے ہر جاندار میں جرثومے پیدا کیے ہیں جنہیں کرو موسوم کہا جاتا ہے پھر ہر جنس میں کرو موسوم کی تعداد شکل و صورت اور ان کی ترتیب مختلف ہے مثلاً انسان کے اندر چھیالیس کرو موسوم ہیں جن کے تئیس (23)جوڑے بنتے ہیں جنسی ملاپ کی صورت میں بائیس جوڑے جسم کی نشو و نما کے لیے اور تئیسواں جوڑا افزائش نسل کے لیے ہوتا ہے قرآن کریم نے نطفہ امشاج سے انسان کو آگے چلایا ہے، اگر ان کی تعداد ،شکل و صورت اور ترتیب میں فرق ہو جائے تو کوئی چیز پیدا نہیں ہوتی ،اگر پیدا ہو جائے تو وہ افزائش نسل کے قابل نہیں ہوتی ہمارے ہاں اس کی مثال گدھے اور  گھوڑے کے ملاپ سے خچر پیدا کرنا ہے،اگرچہ شریعت نے اس سے منع کیا ہے تاہم فوجی حضرات اپنی ضرورت کے لیے مصنوعی بارآوری کے ذریعے خچر کو پیدا کرتے ہیں یہ خچر خود  آگے افزائش نسل کے قابل نہیں ہوتا خواہ نر ہو یامادہ،اس کی پیدائش صرف اس کی ذات تک محدود رہتی ہے۔اس کے آگے نسل نہیں چلتی ہے،اس وضاحت کے بعد ہم صورت مسئولہ کا جائزہ لیتے ہیں کہ سائنسی اعتبار سے یہ ناممکن ہے کہ خنزیر اور گائے کے ملاپ سے کوئی نسل پیدا کی جائے جس میں گائے کی خصوصیات ہوں اور دودھ دینے کے اعتبار سے وہ خنزیر کی خصوصیات کی حامل ہو۔موجودہ اسٹریلین گائے مستقل ایک جنس ہے جس کی آگے نسل چلتی ہے،ان میں نر ومادہ دونوں جوڑے رہتے ہیں،جب پاکستان میں اس نسل کی پہلی کھیپ آئی تو بلوچستان کے ٹھنڈے علاقہ میں رکھا گیا۔اس کھیپ میں نر اور مادہ دونوں قسم کے جانور تھے،ان کے ملاپ سے آگے نسل بھی چلائی گئی۔میں نے اس سلسلہ  میں اس وقت کے محکمہ لائیو اسٹاک کے ڈایئرکٹر سے ملاقات کی،اگر یہ گائے خنزیر کے ملاپ سے پیدا ہوئی تو اس کی نسل آگے نہ چلتی جیسے خچر کی نسل آگئے نہیں چلتی ہے،دودھ زیادہ دینے کی اور کئی وجوہات ہوسکتی ہیں،اس سلسلہ میں غذائیں اور چارہ بھی کافی معاون ہوتا ہے۔میں نے رینالہ فارم میں ایسی گائیں  خود دیکھی ہیں جن کے پیٹ پر ایک پیچدار پائپ لگا ہے ان کے معدے تک پہنچتا ہے۔انہیں چارہ کھلانے کے بعد پائپ کھول کر پتہ چلایا جاتا ہے کہ یہ چارہ کتنی مدت میں ہضم ہوتا ہے پھر زود ہضم چارے کا انتخاب کرکے دودھ زیادہ حاصل کیاجاتا ہے ،چارے کے علاوہ دیگر غذائی مواد بھی کھلایا جاتا ہے تاکہ وہ زیادہ دودھ دیں،بہرحال اس مفروضے کاحقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ یہ نسل گائے اور خنزیر کے ملاپ  سے پیدا کی گئی ہے واقعاتی اعتبار سے ایساہونا اس لیے  بھی ناممکن ہے کہ گائے کہ کروموسوم ساٹھ اور خنزیر کے صرف اڑتیس ہوتے ہیں،ان دونوں کی تعداد میں بائس کروموسوم کا فرق ہے پھر ان کی شکل وصورت میں واضح فرق ہے کہ مادہ خنزیر کے سولہ تھن ہوتے ہیں جبکہ گائے کے صرف چار تھن ہیں۔خصوصیات کے اعتبار سے بھی فرق ہے ہے کہ خنزیر انتہائی بے حیا جانور ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے حرام کیا ہے پھر جن ممالک میں اس کا گوشت کھا یاجاتا ہے وہ انتہائی بے حیا اور بے شرم ہیں،اگرایسا ممکن ہوتا تو اللہ تعالیٰ حضرت نوح علیہ السلام  کو یہ حکم نہ دیتا کہ ایک ایک جوڑا کشتی میں سوار کرلو،صرف  ایک ایک جوڑا ہی کافی تھا پھر ان کے باہمی ملاپ سے آگے نسل چلائی جاسکتی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام  کوحکم دیا:

﴿قُلنَا احمِل فيها مِن كُلٍّ زَوجَينِ اثنَينِ ...﴿٤٠﴾... سورةهود

"ہم نے نوح سے کہا کہ اس کشتی میں ہرقسم کے جانوروں کا ایک ایک جورا نر مادہ رکھ لو۔"

بہرحال خنزیر ایک الگ جنس ہے اور گائے ایک دوسری جنس ہے،ان کاباہمی ملاپ ناممکن تو نہیں البتہ اس سے کسی جنس کا پیدا ہونا ناممکن ہے ،یورپ میں  فرنگی تہذیب سے وابستہ خواتین کتوں سے بدکاری کراتی ہیں لیکن کبھی اس کے نتیجہ میں کوئی نسل پیدا ہوئی ہے؟اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے،مجھے اس حوالہ سے اپنے فقہاء کرام سے شکوہ ہے کہ انہوں نے اس سلسلہ میں فرضی صورتیں بیان کرکے دوسروں کو پریشان کیا ہے،صرف ایک مفروضہ ملاحظہ فرمائیں۔

اگر بکری اور کتے کے ملاپ سے ایسا بچہ پیدا ہو جس کا سر کتے جیسا اور باقی دھڑ بکرے کا ہوتو اس کے حلال وحرام ہونے کے متعلق فقہاء احناف نے حسب ذیل وضاحت کی ہے۔اس کے سامنے  گوشت اور چارہ ڈالاجائے،اگر وہ گوشت کھائے تو اس کا گوشت حرام ہے کیونکہ بنیادی طور پر وہ کتا ہے اگر وہ چارہ کھائے تو ذبح کرنے کے بعد اس کا سرکاٹ کر پھینک دیا جائے اور باقی  گوشت استعمال  کرلیاجائے کیونکہ وہ بنیادی طور پر بکراہے اور اگر وہ چارہ اور گوشت دونوں کھائے تو پھر اسے مارا جائے،اگر بھونکتا ہے تو اس کا گوشت استعمال کے قابل  نہیں کیونکہ وہ کتا ہے اور اگر وہ بکری کی طرح ممیاتا ہے تو ذبح کرکے اس کا سر پھینک دیاجائے اور باقی حصہ کھالیاجائے کیونکہ وہ بنیادی طور پر بکراہے،اگر مارنے سے دونوں قسم کی آوازیں برآمد ہوں تو اس کا پیٹ  چاک کیاجائے اگر اس سے اوجھڑی نکلےتو اس کا سر کاٹ کر پھینک دیاجائے اورباقی حصہ قابل استعمال ہے اور اوجھڑی کی بجائے صرف انتڑیاں ہی برآمد ہوں تو وہ کتا ہے  اور اسےاستعمال نہ کیا جائے۔[1]

ہم اس فتویٰ پراپنی طرف سے کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے ،صرف کہنے کا حق رکھتے ہیں کہ دنیا میں کبھی ایسا ہواہے؟کیا ایسا ہونا عادتاً ممکن ہے؟کیا اس سائنسی دور میں اس قسم کے مفروضوں سے اسلام اور اہل اسلام کے متعلق لوگ کیا کہیں گے؟دراصل اس قسم کے بیسوں مسائل ایسے ہیں جنھوں نے اسلامی شریعت کو اغیار کی نظر میں بدنام کرڈالاہے۔سوال میں ذکر کردہ صورت بھی اس قسم کی معلوم ہوتی ہے۔ممکن ہے کہ کسی نے مذکورہ فتویٰ پڑھ کر گائے اور خنزیر کا افسانہ تراش لیاہو۔ہمارے ہاں بکریوں کی ایک قسم ہرن سے ملتی جلتی ہے،اسکے سینگ،سر،منہ اور آنکھیں بالکل ہرن جیسی ہوتی ہیں،اس کے متعلق بھی بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ جنس بکری ہرن کے ملاپ کانتیجہ ہے،اس طرح برائلر مرغی کے متعلق مشہور ہے کہ اسکی پیدائش باپ کے بغیر ہوتی ہے لہذا اس کا گوشت جائز نہیں ہے۔یہ بھی محض ایک مفروضہ ہے جہاں مرغی فارم ہیں وہاں مرغ بھی رکھے جاتے ہیں وہ مرغیاں جو انڈے دیتی ہیں ان کے بچے نکالے جاتے ہیں لیکن وہ بچے مشینی ہوتے ہیں اگرچہ وہ اکیس دن کے بعد ہی نکلتے ہیں تاہم وہ مرغیوں کے محتاج نہیں ہوتے،ان بچوں کوایک خاص طریقہ سے نر اور مادہ کی چھانٹی کی جاتی ہے جو مرغ ہوتے ہیں انہیں برائلر کے طور پر مارکیٹ میں لایا جاتا ہے ۔ اور مرغیوں کو انڈوں کے لیے رکھاجاتا ہے ،ان کوکیمیاوی غذا کھلاکر انڈے حاصل کیے جاتے ہیں،ان انڈوں سے بچے نہیں نکلتے کیونکہ یہ انڈے صرف غذا سے حاصل کیے جاتے ہیں،ان میں مرغ کا کوئی حصہ نہیں ہوتا،جو مرغی انڈے دے دے کر تھک جائے پھر انڈے نہ دے اور غذا زیادہ کھائے اسے لیر کے نام سے مارکیٹ میں لایا جاتا ہے،اس کا گوشت برائلر کے مقابلہ میں سستا ہے۔بہرحال برائلر گوشت کے استعمال میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے،اگر کسی کا دل نہ کرے تو یہ الگ مسئلہ ہے،بہرحال صورت مسئولہ کےمتعلق ہمارا موقف یہ ہے کہ آسٹریلین گائے جو دودھ بہت  دیتی ہے،اس میں خنزیر کاکوئی حصہ نہیں ہے،اور نہ ہی خنزیر کے ملاپ سے یہ پیدا ہوئی ہے اور ایسا ہونا ممکن نہیں ہے جب کہ ہم نے واضح کہا ہے  کہ جنس کو آگے چلانے کے لیے کروموسوم کی تعداد،شکل وصورت اور ان کی  ترتیب میں یکسانیت ہونا ضروری ہے،گائے اور خنزیر میں ایسا ہونا ناممکن ہے ،اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی کچھ روایات بھی ہیں جو آپ نے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے ایک سوال کے جواب میں اشاد فرمائیں تھی،جنھیں ہم نے شرح بخاری میں  تفصیل سے بیان کیا ہے اور جو آج کل آخری مراحل میں ہے۔قارئین کرام سے اپیل ہے کہ وہ اس کی تکمیل کے لیے ضروردعا کریں اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین


[1] ۔فتاویٰ قاضی خان برحاشیہ عالمگیری ،ص:537،ج3۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 507

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)