فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 20781
(611) اسقاط حمل کب جائز ہے؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 10 April 2017 10:53 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میری بیوی پانچ ماہ کی حاملہ ہے طبی رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ بچہ ناقص الخلقت ہونے کی وجہ سے معمول کی زندگی نہیں گزار سکے گا یا وہ کسی خطرناک موروثی بیماری کا شکار ہوگا کیا ایسی صورت میں اس کا اسقاط جائز ہے؟ کیونکہ وہ پیدا ہونے کے بعد والدین اور معاشرہ پر بوجھ ہوگا ۔کتاب و سنت میں اس کے متعلق کیا ہدایات ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ماں کے پیٹ میں جو بچہ پرورش پاتا ہے اسے جنین کہا جاتا ہے، اس کی تین حالتیں ہوتی ہے۔

1۔میاں بیوی دونوں کا مادہ منویہ مل کر نطفہ امشاج کی شکل میں رحم میں استقرار پاتا ہے پھر جما ہواخون بن جاتا ہے۔

2۔دوسرے مرحلہ میں وہ گوشت کا لوتھڑا بن جاتاہے ۔اور انسانی اعضاء کی تخلیق ہوتی ہے۔ حتی کہ انسانی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

3۔تیسرے مرحلہ میں اس کے اندر روح پھونک دی جاتی ہے۔اور جیتا جاگتا انسان بن جاتا ہے ان تینوں مراحل کی ایک حدیث میں نشاندہی کی گئی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"تم میں سے ہرایک کی تخلیق اس کی ماں کے پیٹ میں اس طرح مکمل کی جاتی ہے کہ وہ چالیس روز تک نطفہ رہتا ہے پھر اتنی ہی مدت جما ہوا خون رہتا ہےپھر اتنی ہی مدت گوشت کا لوتھڑارہتا ہے پھر اللہ تعالیٰ چار باتیں لکھنے کے لیے اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجتا ہے وہ اس کا کردار ، اس کی عمر، اس کا رزق اور اس کا بد نصیب یا سعادت  مند ہونا لکھتا ہے پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔"[1] 

ان تینوں مراحل میں اسقاط جائز نہیں ہے کیونکہ شریعت نے نکاح کو اس لیے مشروع قرار دیا ہے کہ اس کے ذریعے توالدوتناسل کا سلسلہ جاری رہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد گرامی ہے۔"تم محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جنم دینے والی عورت سے نکاح کرو کیونکہ میں تمھاری کثرت کے باعث دوسری اُمتوں پر فخر کروں گا۔[2]

نکاح کے اس مقصد کے پیش نظر اسلام نے ہمیں ہر اس عمل سے منع کیا ہے جو اس مقصد کے متصادم ہو مثلاً مانع حمل ادویات نس بندی اور اسقاط حمل وغیرہ ۔

1۔حمل کے پہلے مرحلہ کا اسقاط اس لیے منع ہے کہ عورت کے رحم میں نطفہ قرارپا جانے کے بعد بالآخر وہ زندگی اختیار کر لیتا ہےاس لیے اس نطفہ امشاج پر بھی زندگی کا حکم ہوگا حرم میں چڑیا کا انڈا توڑ دینا ،زندہ چڑیا شکار کرنے کے حکم میں ہے لہٰذا رحم مادر میں نطفہ کے جانے اور قرار پانے کے بعد اس کو برباد کرنا جائز نہیں ہے اور اعضاء کی تخلیق سے پہلے بھی ایسا عمل اختیار کرنا جس سے وہ تولید کے قابل نہ رہے اور اس کا اسقاط ہو جائے درست نہیں ہے۔

2۔حمل کا دوسرا مرحلہ جب کہ اس کے اعضاء تخلیق ہو جائیں ، اس کا اسقاط بھی حرام ہے اگرچہ اس میں جان نہ پڑھی ہو کیونکہ ایسی صورت میں وہ حمل عورت کے جسم کا ایک حصہ ہوتا ہے جس طرح کسی کا قتل کرنا درست نہیں ،اس کےجسم کے کسی حصہ کو کاٹ دینا بھی جائز نہیں ہے پھر یہ جسم اور اس کا  ہر ہرحصہ اللہ تعالیٰ کی ملک ہے۔ ہم اللہ کی ملک میں اللہ کی مرضی کے خلاف کوئی تصرف کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ کسی انسان کو یہ اجازت نہیں کہ وہ اپنے جسم کے کسی حصہ کو کاٹ ڈالے یا خود کشی کرے۔ اگرچہ یہ اسقاط قتل نفس کے درجہ کا گناہ نہیں تاہم اس کے ناجائز ہونے میں بھی کوئی شبہ نہیں ہے۔

3۔حمل کا تیسرا مرحلہ جب جنین میں جان پڑجائے اور یہ چار ماہ کے بعد ہوتا ہے، اس مرحلہ میں اس کا اسقاط حرام اور ناجائز ہے کیونکہ اس میں روح اور آثار زندگی پیدا ہو چکے ہیں اس حالت میں اسے ضائع کرنا قتل نفس  کے برابر ہے۔ اس میں اور دوسرے انسانوں کے قتل میں فرق یہ ہے کہ اسے ماں کے پیٹ میں قتل کرنا ہے اور دوسرے انسان کو دنیا میں آجانے کے بعد مار دینا ہے۔ دونوں میں بنیادی طور پر کوئی فرق نہیں ، ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

﴿وَلا تَقتُلوا أَولـٰدَكُم خَشيَةَ إِملـٰقٍ نَحنُ نَرزُقُهُم وَإِيّاكُم إِنَّ قَتلَهُم كانَ خِطـًٔا كَبيرًا ﴿٣١﴾... سورةالإسراء

"اپنی اولاد کو مفلسی کے اندیشے سے مت قتل کرو۔ ہم ان کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی۔ بلا شبہ ان کا قتل بہت بھاری گنا ہ ہے۔"

اس آیت کے مخاطب جہاں وہ لوگ ہیں جو اپنے بچوں کو اس دنیا میں آنے کے بعد زندہ درگور کرتے تھے وہ لوگ بھی ہیں جو شکم مادر میں پرورش پانے والے بچوں کو زندگی سے محروم کر دیتے ہیں اگر ایسی صورت سامنے آجائے کہ ماں کی جان خطرے میں ہو اور حمل کے اسقاط کے بغیر اس کی جان بچانا ممکن نہ ہوتو اس صورت میں حمل کا اسقاط کیا جا سکتا ہے خواہ وہ کسی مرحلہ میں ہوکیونکہ سنگین نقصان سے بچنے کے لیے ہلکے نقصان کو برداشت کر لینا عین انصاف اور قرین قیاس ہے۔ ماں کی موت ایک سنگین نقصان ہے اور اس کے مقابلہ میں حمل کا اسقاط اس سے کم درجہ کا نقصان ہے پھر ڈاکٹر حضرات کی تشخیص کوئی یقینی اور حتمی نہیں ہوتی کہ اسے بنیاد بنا کر ایک جان کو ضائع کر دیا جائے۔ ان کی تحقیق ایک "ظن" کے درجہ میں ہے کہ یہ بچہ آئندہ معمول کی زندگی نہیں گزار سکے گا، شریعت میں ایسے ظن کو بنیاد بنا کر اتنا بڑا نقصان کرنا جائز نہیں ہے صورت مسئولہ میں حمل کو پانچ ماہ گزر چکے ہیں اور وہ تیسرے مرحلہ میں داخل ہو چکا ہے اس لیے ڈاکٹروں کے کہنے پر اسے ضائع کرنا غیر قانونی اور غیر اسلامی بلکہ غیر انسانی حرکت ہے، اس سے اجتناب کرنا چاہیے ۔(واللہ اعلم)


[1] ۔صحیح بخاری بدء الخلق :3208۔

[2] ۔ابو داؤد النکاح:2050۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 506

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)