فتاویٰ جات: فتاوی کتب
فتویٰ نمبر : 20780
(610) سرکاری اہل کار کو تحفہ دینا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 10 April 2017 10:51 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جو اہل کار سر کاری طور پر کسی کام کے لیے تعینات ہوتے ہیں ان کو تحفہ وغیرہ دینا اور ان کے تحائف قبول کرنا شرعاً کیا حکم رکھتا ہے ؟تفصیل سے ہماری راہنمائی فرمائیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سر کاری طور پر جو آدمی کسی کام کے لیے تعینات ہے اور اسے باقاعدہ اس کام کی تنخواہ ملتی ہے تو ایسے لوگوں کو تحائف دینا اور ان کے تحائف قبول کرنا ناجائز اور حرام ہے کیونکہ وہ اس کام کی باقاعدہ تنخواہ لیتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد گرامی ہے ۔"جس شخص کو ہم کسی کام پر تعینات کریں اور ہم اسے اس کام کا مقرر ہ معاوضہ بھی دیں تو پھر وہ جو کچھ بھی اس تنخواہ کے علاوہ لے گا وہ خیانت ہو گی۔"[1]

سرکاری اہل کار کو چاہیے کہ وہ دیانت داری کے ساتھ اپنا کام سر انجام دے، اس پروہ کسی قسم کا تحفہ قبول نہ کرے کیونکہ ایسا کرنا رشوت اور خیانت میں شامل ہے ہاں اگر تحفہ کسی غرض کے بغیر ہواور اسے عہدہ سے پہلے دیا جاتاتھا تو اسے قبول کرنے میں چنداں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو لازماً تحفہ دینے والا سر کاری اہل کار کو اپنی طرف مائل کر کے اپنے مقاصد کو اس کے ذریعے پورا کرنا چاہتا ہے اور اپنے حق میں فیصلہ کرانا چاہتا ہے لہذا ایسے حالات میں سر کاری اہل کار کو تحفہ دینے اور اسے قبول کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے ۔ حضرت ابو امامہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :"جو شخص اپنے بھائی کی سفارش کرے پھر اسے تحائف دیے جائیں اور وہ انہیں قبول کرے تو یہ سود کے دروازوں میں سے ایک بڑے دروازے کو آیا ہے ۔[2]

لہٰذا ایسے حالات میں تحائف دینے اور لینے سے اجتناب برتنا چاہیے۔(واللہ اعلم)


[1] ۔ابو داود،البیوع:2943۔

[2] ۔ابو داؤدالبیوع:3541۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 505

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)