فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 20778
(608) ساس کا بوسہ لینا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 10 April 2017 10:46 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا کوئی آدمی اپنی ساس کا بوسہ لے سکتا ہے وضاحت کریں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مرد کی ساس کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تمھاری بیویوں کی مائیں بھی حرام کر دی گئی ہیں۔النساء23

اس آیت کی روسے ساس اپنے داماد سے پردہ نہیں کرے گی اور داماد کو اپنی ساس کا چہر ہ دیکھنے کی اجازت ہے کیونکہ وہ بھی حقیقی ماں کے درجہ میں ہے اس کی عزت و تکریم بالکل اس طرح کی جائے جس طرح انسان اپنی حقیقی ماں کا اکرام و احترام کرتا ہے۔

لیکن آج کل کے پرنٹ میڈیا نے ان رشتوں کو پامال کر دیا ہے بعض بد بخت ایسے بھی ہیں جو اپنی ساس سے منہ کالا کرنے سے باز نہیں آتے اس میں ساس کی خواہش بھی ہوتی ہے ایسے واقعات اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔

اس بنا پر ہمارا رجحان یہ ہے کہ داماد اپنی ساس کا چہرہ تو دیکھ سکتا ہے اور اگر جذبات پر کنٹرول کرنے کی ہمت ہو تو اپنی ساس کا بوسہ بھی لے سکتا ہے، ہاں اگر وہ بوڑھی ہے تو پھر ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ اگر وہ جوان ہے اور جذبات پر کنٹرول نہ رکھنے کا اندیشہ ہوتو بوسہ وغیرہ سے اجتناب کرنا چاہیے ۔(واللہ اعلم)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 504

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)