فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 20776
(606) مال کی حفاظت میں مارا جانا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 10 April 2017 10:42 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے گھر میں ڈاکوآگئے ، میرے بیٹے نے ہمارا اور ہمارے مال کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جان اللہ کے حوالے کر دی۔اسے گولی لگی وہ اسی وقت اللہ کو پیارا ہو گیا۔ایسی موت کے متعلق شرعی طور پر کیا حکم ہے ؟ قرآن و حدیث کے مطابق فتویٰ دیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کاش کہ ہمارا ملک امن کا گہوارہ ہوتا لیکن ہر طرف جنگل کا قانون ہے، یہاں نہ کسی کی جان محفوظ ہے اور نہ ہی کسی کا مال کی خفاظت کی جاتی ہے۔ڈاکو جب چاہتے ہیں جسے چاہتے ہیں لوٹ لیتے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے محافظ ان کے ساتھ ملے ہوتے ہیں ایسے حالات میں نہایت حکمت عملی کے ساتھ کوئی اقدام کرنا چاہیے۔قرآن وحدیث کے مطابق اپنی جان اپنے مال اہل وعیال اور عزت و دین کے دفاع میں مارے جانا شہادت کی موت ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا اشاد گرامی ہے۔

"جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کر دیا گیا وہ شہید ہے جو اپنے اہل و عیال کے دفاع میں قتل کر دیا گیا وہ بھی شہید ہے جو اپنا دین بچاتے ہوئے مارا گیا وہ بھی شہید ہے اور جو اپنی جان بچاتے ہوئے قتل کر دیا گیا وہ بھی شہید ہے۔"[1]

فقہی اصطلاح میں اس قسم کی شہادت کو شہادت صغریٰ کہتے ہیں البتہ شہادت کبریٰ یہ ہے کہ جو مجاہد میدان کار زار میں اللہ کے دین کو بلند کرنے کا عزم لے کر اپنی جان اللہ کے حوالے کردے صورت مسئولہ میں نوجوان نے اہل خانہ اور اہلخانہ کے مال کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جان اللہ کے سپرد کی ہے۔حدیث بالا کے مطابق وہ شہید ہے لیکن اس قسم کی شہادت اس انسان کے لیے کار آمد ہے جس کا عقیدہ صحیح ہو۔اگر عقیدہ خراب ہے تو شہادت کبریٰ بھی اس کے کام نہیں آسکے گی۔اللہ تعالیٰ ہماری اور ہمارے اموال کی حفاظت فرمائے ۔(آمین)


[1] ۔ابو داؤد،السنۃ:4772۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 503

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)