فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 20775
(605) اسلام میں ذات پات کا مقام
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 10 April 2017 10:40 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیااسلام میں ذات پات کی کوئی حیثیت نہیں ہے؟ اگر کوئی حیثیت نہیں تو لوگ اپنے نام کے ساتھ کیوں لکھتے ہیں ؟قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اسلام ذات پات کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اس ذات پات کو کسی صورت میں فخر و مباہات کا ذریعہ قرارنہیں دیا جا سکتا کیونکہ پیدائش اور خلقت کے اعتبار سے تمام انسان برابر ہیں کیونکہ ان کا پیدا کرنے والا ایک رب ہے تمام انسانوں  کا مادہ تخلیق اور طریق پیدائش بھی ایک ہی ہے نیز ان سب کا نسب ایک ہی ماں باپ تک پہنچتا ہے اس کے علاوہ کسی شخص کا کسی خاص ایک قوم یا برادری میں پیدا ہونا ایک اتفاقی امر ہے ۔ اس میں انسان کے اپنے ارادہ انتخاب اور اس کی اپنی کوشش کو کوئی دخل نہیں ہے اس بنا پر کوئی معقول وجہ نہیں کہ ذات پات کے اعتبار سے کسی کو کسی پر کوئی فضیلت حاصل ہو۔اصل چیز جس کی بنا پر ایک شخص کو دوسروں پر فضیلت حاصل ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرنے والا، برائیوں سے نفرت کرنے والا اور نیکی اور تقویٰ کی راہ پر چلنے والے ہو۔ ایسا آدمی خواہ کسی نسل ، کسی قوم اور کسی ملک سے تعلق رکھتا ہو۔ وہ اپنی اس خوبی کی بنا پر قابل قدر ہے، اور جس شخص کا حال اس کے برعکس ہو وہ بہر حال ایک کمتر درجے اکا انسان ہے وہ گورا ہو یا کالا ، قریشی ہو یا حبشی ، مشرق میں پیدا ہوا ہو یا مغرب میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

﴿يـٰأَيُّهَا النّاسُ إِنّا خَلَقنـٰكُم مِن ذَكَرٍ وَأُنثىٰ وَجَعَلنـٰكُم شُعوبًا وَقَبائِلَ لِتَعارَفوا إِنَّ أَكرَمَكُم عِندَ اللَّهِ أَتقىٰكُم ...﴿١٣﴾... سورة الحجرات

"اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ، تمھاری ذاتیں اور قبیلے اس لیے بنائے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل عزت وہی ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیز گار ہو۔"

اس آیت کے مطابق ذات پات اور خاندان اور قبیلے سے صرف یہ فائدہ ہے کہ ان کے ذریعے ایک دوسرے کاتعارف حاصل ہوتا ہے، ایک شخص کا نام اسامہ ہے اور اس کے باپ کا نام زید ہے دوسرے کا نام اور ولدیت بھی یہی ہے تو الگ الگ قبیلہ یا برادری سے متعلق ہونے کی وجہ سے ان میں امتیاز ہو جائے گا کہ ایک اسامہ بن زید انصاری ہے اور دوسرا اسامہ بن زید قریشی  ہے لیکن ہم لوگوں نے ان چیزوں کو باہمی تفاخرو تنافرکا ذریعہ بنا لیا ہے۔تونسل کی بنیاد پر بڑابن بیٹھا ہےاور دوسروں کو حقیر اور ذلیل خیال کرتا ہے اور کوئی قوم ، رنگ اور زبان کی وجہ سے شریف اور اعلیٰ درجہ کے انسان بن بیٹھے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک موقع پر فرما یا تھا۔اُمت میں چارکام جاہلیت کی یادگار ہیں لوگ انہیں ترک نہیں کریں گے ایک حسب و نسب پر فخر کرنا ۔دوسرا نسب میں طعنہ زنی کرنا۔ تیسرا ستاروں کو بارش برسنے میں مؤثر خیال کرنا اورچوتھا مصیبت کے وقت رونا ، دھونا اور ہائے وائے کرنا۔[1]

اس سلسلہ میں آپ کا درج ذیل فرمان بھی راہنما اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔"اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کے فخر و غرور کو دور کردیا ہے اور اپنے ماں باپ پر فخر کرنے کو بھی نابود کر دیا ہے لوگ صرف دو حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں ایک نیک اور پرہیز گار جو اللہ کی نگاہ میں عزت والا ہے اور دوسرا فاجر اور شقی جو اللہ کی نگاہ میں ذلیل ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور اللہ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا ہے لوگوں کو اپنے آباء واجداد پر فخر کرنا چھوڑدینا چاہیے  بصورت دیگر وہ اللہ کی نظر میں گندگی کے کیڑے سے بھی زیادہ ذلیل ہوں گے۔[2]

بہر حال اسلام میں ذات پات کی حیثیت باہمی تعارف کی ہے اس لیے تعارف کے طور پر اپنے نام کے آگے لکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے البتہ اسے فخر اور غرور کا ذریعہ ہر گز نہیں بنانا چاہیے۔


[1] ۔صحیح مسلم۔الجنائز:934۔

[2] ۔مسند امام احمد،ص:361۔ج2۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 502

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)