فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 20773
(603) دینی پروگرام کے لیے مخصوص تاریخ یا دن مقرر کرنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 10 April 2017 10:37 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

دینی پرو گرام کرنے کے لیے کوئی خاص دن یا خاص وقت مقرر کرنا شرعاً کیا حیثیت رکھتا ہے۔جب کہ دیگر مکاتب فکر ان دنوں خرافات و بدعات کی محفلیں منعقد کرتے ہوں مثلاً،9،10محرم اور 12 ربیع الاول کے دن دینی پرو گرام کرنا پھر اس دن اہل محفل کو شربت پلانا اور کھانے کا اہتمام کرنا ان دنوں تقاریر کا اہتمام کرنا جائز ہے یا شریعت میں ایسا کرنا ناجائز ہے؟کتاب و سنت کی روشنی میں وضاحت کریں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دینی پروگرام منعقد کرنے کی دو صورتیں حسب ذیل ہیں

1۔سامعین کی سہولت یا فرصت کے پیش نظر دن یا وقت یا جگہ کا تعین کرنا مثلاً اتوار کے دن عام لوگوں کو چھٹی ہوتی ہے یا نماز عشاءکے بعد وقت فارغ ہوتا ہے۔ یا کسی ہال میں سامعین باسہولت آسکتے ہیں تو ایسے حالات میں دن وقت یا جگہ کا تعین کرنے میں کوئی حرج نہیں  بلکہ مستحسن  امر ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے لوگوں کو وعظ نصیحت کے لیے جمعرات کا دن مقرر کیا تھا ۔ چنانچہ حضرت ابو وائل کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ہر جمعرات کے دن لوگوں کو وعظ و نصیحت فرماتے تھے تو ایک آدمی نے کہا:اے ابو عبدالرحمٰن ! ہماری خواہش ہے کہ آپ ہمیں ہر دن وعظ کیا کریں انھوں نے فرمایا کہ میں تمھاری اکتاہٹ کو ناپسندکرتا ہوں اور وعظ کے لیے میں تمھارا خیال رکھتا ہوں۔جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  ہمارا خیال رکھتے تھے ،مباداہم اکتاجائیں۔[1]

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  نے اس حدیث پر بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے۔جو تشنگان علم کے لیے دن مقرر کر لے تو جائز ہے۔"

خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے عورتوں کو وعظ کرنے کے لیے مخصوص جگہ اور مخصوص وقت طے کیا ہوا تھا جیسا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے ایک حدیث میں اس کی صراحت کی ہے۔[2]بہر حال مخصوص حالات میں وعظ نصیحت کے لیے دن مقرر کرنے میں کو ئی حرج نہیں ہے۔

اہل بدعت نے اپنی بدعات و خرافات کے رواج کے لیے مخصوص مقامات اور دن مقرر کیے ہیں وہ دن یا مقامات ان کے لیے شعار کی حیثیت رکھتے ہیں مثلاً،مرنے کے بعد تیسرے ،ساتویں اور چالیسویں دن کو ہمارے ہاں میت کے ایصال ثواب کے لیے خاص رسومات قرآن خوانی اور ختم وغیرہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

محرم کی نویں اور دسویں نیز ربیع الاول کی بارہ تاریخ میں ایک مخصوص طبقہ خرافات و بدعات کی محافل منعقد کرتا ہے اور ان محافل میں شرک و بدعات کی تعلیم دیتا ہے پھر ان دنوں کھانے اورشربت پلانے کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔

رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں لوگوں کو بیدار رکھنے کے لیے مسجد میں چراغاں کیا جاتا ہے پھر عبادت گزار حضرات کو مصروف رکھنے کے لیے اجتماعی محفل ذکر کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

ان دنوں اہل حق کو چاہیے کہ اہل بدعت کا طرز عمل اختیار نہ کریں بلکہ وعظ کرنے کے لیے ان دنوں کے علاوہ دوسرے ایام کا انتخاب کریں بلکہ ایسا کرنے سے ان کی پوری پوری مشابہت ہوتی ہے پھر عام آدمی کو ان دنوں میں بدعات کے ارتکاب کی دلیل مل جاتی ہے کیونکہ اہل حق ان دنوں تقریر کرتے ہیں جب کہ بدعت ان دنوں ختم اور قرآن خوانی کا اہتمام کرتے ہیں قرآن پڑھنا اچھی چیز ہے لیکن اس کے لیے ایک خاص طریقہ اور ان کی تعیین بدعت کےزمرہ میں آتی ہے اس بنا پر ہم کہتے ہیں کہ ان دنوں قرآن پڑھنے کا عمل محل نظر ہے پھر جس انداز اور اسلوب سے ان محافل میں پڑھا جاتا ہے شرعی اعتبار سے وہ انتہائی قابل اعتراض ہے، جب ان دنوں اجتماعی ذکر یا قرآن خوانی جائز نہیں تو تقریر کرنا کیونکر جائز ہو سکتا ہے؟ جب کہ تقاریر کے لیے بھی اس طرح کا اہتمام کیا جاتا ہے جس طرح اہل بدعت اپنی بدعات کے رواج کے لیے کرتے ہیں جیسا کہ لوگ مزاروں پر غیرا للہ کے نام کی دیگیں چڑھاتے ہیں ہم وہاں جا کر اللہ کے نام کی خیرات کریں تو شریعت نے اسے پسند نہیں فرمایا کیونکہ ایسا کرنے میں اہل بدعت کی مشابہت پائی جاتی ہے چنانچہ حضرت ثابت بن ضحاک  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں بوانہ مقام پر اونٹ ذبح کرنے کی نذرمانی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"کیا وہاں دور جاہلیت کا کوئی بت تھا جس کی پوجا پاٹ کی جاتی ہو؟اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  !وہاں اس طرح کی کوئی چیز نہ تھی اور نہ اب ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :"کیا وہاں دور جاہلیت کی عیدوں میں سے کوئی عید منائی جاتی تھی ؟"اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  !وہاں کوئی جشن یا عید کا اہتمام نہیں ہو تا اس وضاحت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :"جاؤ وہاں اپنی نذر پوری کرو کیونکہ اللہ کی نا فرمانی میں نذرکا پورا کرنا ضروری نہیں اور نہ ہی اس میں جس کا انسان مالک نہیں۔"[3]


[1] ۔صحیح بخاری۔العلم:70۔

[2] ۔صحیح بخاری ،العلم:101

[3] ۔ابوداؤد،الایمان والنذور:3313۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 498

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)