فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 20767
(597) تکبیر پڑھ کر اونٹ کی دُم کاٹنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 09 April 2017 04:22 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر اونٹ کسی گہرے گڑھے میں گر جائے جہاں سے اسے زندہ نکالنا مشکل ہو اور اسی حالت میں پڑارہنے سے اس کے مرنے کا اندیشہ ہو تو ایسے حالات میں کیا کیا جائے ؟ ہمارے ہاں ایک آدمی نے مسئلہ بیان کیا کہ بسم اللہ،اللہ اکبر پڑھ کر اس کی دُم کو کاٹ دیا جائے تو وہ ذبح ہو جاتا ہے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صورت مسئولہ میں جو اونٹ کو ذبح کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے اس کا قرآن وحدیث میں کوئی ثبوت نہیں ہے بلکہ جہالت پر مبنی ایک رسم معلوم ہوتی ہے امام بخاری  رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے۔"جب کسی قوم کا کوئی اونٹ بدک جائے اور قوم میں سے کوئی شخص خیر خواہی کی نیت سے اسے تیرسے نشانہ لگا کر مارڈالے تو جائز ہے۔"حضرت رافع بن خدیج  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی حدیث اس کی تائید کرتی ہے۔[1]

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی حدیث کے الفاظ حسب ذیل ہیں فرماتے ہیں ۔ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ہمراہ ایک سفر میں تھے ،ایک اونٹ بدک کر بھاگ نکلا تو ایک آدمی نے اسے اپنے تیر سے مارا ، اللہ تعالیٰ نے اسے روک دیا ، اس کے بعد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا یہ اونٹ بھی بعض اوقات جنگلی جانوروں کی طرح بدکتے ہیں، لہٰذا ان میں جوتمھارے قابو سے باہر ہو جائیں ان کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرو۔"[2]  

اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ جب کسی وجہ سے جانور کو ذبح کرنا مشکل ہوجائے تو تیر یا نیزہ مارکر اسے حلال کرنا درست ہےاور ایسا کرنا ذبح ہی کی طرح ہے اس کا گوشت استعمال کرنے میں چنداں حرج نہیں ہے۔ صورت مسئولہ میں اگر واقعی اونٹ کو باہر نہیں نکالا جا سکتا تو اسے تکبیر پڑھ کر نیز ہ وغیرہ سے حلال کیا جا سکتا ہے لیکن بسم اللہ واللہ اکبر پڑھ کر صرف اس کی دُم کاٹنے والی بات جاہلانہ رسم ہے ،عقل و نقل سے اس کا ثبوت نہیں ملتا حدیث میں بیان کردہ صورت پر صورت مسئولہ کو قیاس کیا جا سکتا ہے کہ جب بھی کسی جانور کو ذبح نہ کیا جا سکتا ہو تو اس کے ساتھ حدیث میں بیان کردہ طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے(واللہ اعلم)


[1] ۔صحیح بخاری ،الذبائخ،باب نمبر37۔

[2] ۔صحیح بخاری،الذبائغ:5544۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 494

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)