فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 20764
(594) ٹیکہ کے ذریعے جانور سے دودھ حاصل کرنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 09 April 2017 04:17 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

دودھ دینے والے جانور سے ٹیکہ کے ذریعے دودھ حاصل کرنا شرعاً کیسا ہے کیا یہ غیر فطرتی طریقہ نہیں ہے؟وضاحت فرمائیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جانوروں کے حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ اسے پیٹ بھر کر چارہ کھلایا جائے پھر اس سے کام لیا جائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے ایک اونٹ نے شکایت کی تھی کہ اس کا مالک اسے چارہ کم دیتا ہے اور کام زیادہ لیتا ہے، اس  پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس کے مالک کو بلا کر تنبیہہ فرمائی اور جانوروں کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کی۔[1]

جانور کی حق ادائیگی کے بعد اس سے ہر ممکن صورت میں فائدہ اٹھا یا جا سکتا ہے چونکہ جانور کا دودھ اس کے اہم فوائد سے ہے اور اللہ تعالیٰ نے بطور خاص اس فائدہ کا ذکر کیا ہے۔[2]اس لیے جانور اگر اڑیل مزاج ہے اور عام طریقہ  سے دودھ نہ دیتا ہو تو ٹیکہ لگا کر دودھ حاصل کرنا جائز ہے شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں ہے البتہ بھوکے پیٹ اس سے انجکشن کے ذریعہ دودھ حاصل کرنا فطرت کے خلاف ہے، ایک مسلمان کو اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔


[1] ۔مسند امام احمد،ص:173۔ج4۔

[2] ۔16/النحل:66۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 491

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)