فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 20762
(592) انسان کے بالغ ہونے کی علامات؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 09 April 2017 04:13 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

انسان کے بالغ ہونے کی کیا علامات ہیں۔کتاب و سنت میں اس کے متعلق کیا صراحت ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مختلف احادیث کے مطابق مرد و زن کی درج ذیل بلوغ کی علامت ہیں۔

1۔جب کہ عمر پندرہ سال ہو جائے ،چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا بیان ہے کہ جنگ اُحد کےوقت میری عمر  چودہ سال کی تھی تو مجھے جنگ میں شرکت کی اجازت نہ ملی  لیکن  غزوہ خندق میں میری عمر پندرہ سال کی ہوئی تو مجھے جنگ میں شامل کر لیا گیا۔[1]

2۔زیر ناف بالوں کا  اُگنا  چنانچہ جنگ قریظہ کے دن جس شخص کے بال اُگے تھے اسے قتل کر دیا جاتا اور جس کے بال نہ ہوتے اسے چھوڑ دیا جاتا۔[2]

3۔احتلام آجائے تو بھی بالغ ہونے کی علامت ہے چنانچہ حدیث میں ہے ۔"احتلام آجانے کے بعد دور یتیمی ختم ہو جاتا ہے۔[3]

4۔اسی طرح لڑکی کو جب حیض آنا شروع ہو جائے تو بھی اس کے بالغ ہونے کی علامت ہے لیکن ہمارے ملکی قانون میں 18 سال کی عمر کو بالغ ہونے کی علامت قراردیا گیا ہے غالباًفقہ حنفی میں بھی بلوغ کا یہی معیار ہے۔ درج بالا احادیث کے پیش نظریہ معیار انتہائی محل نظر ہے۔


[1] ۔صحیح بخاری المغازی:5097۔

[2] ۔ابو داؤد کتاب،الحدود:4404۔

[3] ۔بیہقی ،ص:320۔ج7۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 489

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)