فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 20760
(590) امیر کے بغیر رہنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 09 April 2017 03:17 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد گرامی ہے۔"کہ تین آدمیوں کے لیے امیرشرعی  کے بغیر رہنا جائز نہیں ۔"یہ حدیث کس کتاب میں ہے اس کا مفہوم کیا ہے نیز وضاحت کریں کہ وہ تین قسم کے لوگ کون کون سے ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ حدیث امام احمد سنن بیہقی اور ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ میں ہے سوال میں مذکورہ الفاظ مجھے نہیں مل سکے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی یہ الفاظ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"آبادی سے باہر جب مکین ہوں تو انہیں اپنے میں سے کسی ایک کو امیر بنا لینا چاہیے۔"[1]

اس حدیث کا تعلق سفر سے ہے کہ دوران سفر کسی کو امیر سفر بنا لینا چاہیے تاکہ اجتماعیت  برقرار رہے اور نظم وضبط  کے ساتھ سفر جاری رکھ سکیں۔ چنانچہ حدیث میں اس کی صراحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"جب تین آدمی سفر کو نکلیں تو کسی ایک کو امیر ضرور بنائیں۔"[2]

حضرت ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے جب حدیث بیان کی تو وہ سفر میں تھے تو ان کے شاگرد حضرت نافع نے عرض کیا کہ اس حدیث کے پیش نظر آپ ہمارے امیر ہیں۔[3]

واضح رہے کہ اس قسم کی امارات "امارات صغریٰ" کہلاتی ہے جس میں سفر کی زندگی کو ایک ضابطہ سے ادا کیا جاتا ہے، پھر انسان کو امارات کبریٰ کے قیام کے لیے بھی کوشاں رہنا چاہیے جسے قرآن نے"اولی الامر"سے تعبیر کیا ہے اس کی اطاعت مشروط ہوتی ہے، جب تک اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی تعلیمات کے مطابق عمل پیرا ہوں گے ان کی اطاعت ضروری ہے بصورت دیگر ان کی اطاعت ضروری نہیں ،بہر صورت مندرجہ بالا حدیث سفر سے متعلق ہے کہ سفر کرتے وقت انسان کو چاہیے کہ اپنے سے بہتر کسی شخص کو امیر بنا کر اپنے سفر کو جاری رکھے۔اس سے مرادحدود اللہ قائم کرنے والا امیر نہیں ہے۔(واللہ اعلم)


[1] ۔مسند امام احمد،ص:1777۔ج2۔

[2] ۔ابو داؤد الجہاد :2608۔

[3] ۔بیہقی،ص:257۔ج5۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 487

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)