فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 20754
(584) دریائے نیل میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خط ڈالینا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 09 April 2017 03:09 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اکثر واعظین یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ دریائے نیل کا پانی بند ہو گیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے اس کی طرف ایک خط لکھا جب وہ خط دریائے نیل میں ڈالا گیا تو اس کا پانی دوبارہ جاری ہو گیا، یہ واقعہ صحیح ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ واقعہ بایں الفاظ مشہور ہے کہ جب مصر فتح ہوا تو لوگوں نے فوج کے سالار حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے کہا کہ ہمارے ہاں دریائے نیل اس وقت بہتا ہے جب قمری مہینہ کی گیارہ تاریخ کو رات کے وقت ایک جوان لڑکی اس کی نذر کی جائے۔حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے یہ سن کر جواب دیا کہ اسلام میں ایسا نہیں ہو سکتا ،تاہم انھوں نے سید نا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی طرف اس سلسلہ میں ایک خط لکھا،امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے ایک جوابی رقعہ لکھا جس میں یہ عبارت تحریر تھی۔ "اللہ کے بندے عمر کی طرف سے دریائے نیل کے نام !اگر تو خود بخود بہتا ہے تو ہمیں تیری قطعاً کوئی ضرورت نہیں اور اگر تجھے اللہ تعالیٰ جاری کرتا ہے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تجھے جاری کردے۔"جب یہ خط دریائے نیل میں ڈالا گیا تو وہ دس ہاتھ بلند ہوکر بہنے لگا۔"[1]

تفسیر ابن کثیر میں بھی یہ واقعہ بیان ہوا ہے۔[2]لیکن یہ روایت ضعیف اور ناقابل قبول ہے بلکہ یہ تمام قصہ بے بنیاد اور باطل ہے کیونکہ اسے بیان کرنے والا عبداللہ بن لہیعہ راوی مدلس ہے جو اپنے استادقیس بن حجاج سے بصیغہ عن بیان کرتا ہے۔

قیس بن حجاج تبع تابعی ہے جو اپنے نامعلوم استاد سے اس کہانی کو بیان کرتا ہےوہ۔ عمن حدثه کے الفاظ سے اس روایت کو ذکر کرتا ہے۔ بہر حال یہ قصہ صحیح سند سے ثابت نہیں ہے واعظین کو چاہیے کہ وہ ایسے بے بنیاد قصے کہا نیاں بیان کرنے سے اجتناب کریں ۔(واللہ اعلم)


[1] ۔البدایہ والنہاریۃ،ص:23۔ج1۔

[2] ۔تفسیر ابن کثیر:464۔ج4۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 483

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)