فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 20752
(582) زچگی میں وفات پاجانا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 09 April 2017 03:06 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک عورت بچے کی پیدائش کے موقع پر دوران آپریشن فوت ہو جاتی ہے کیا اسے بھی شہادت کا رتبہ ملے گا اگرچہ اس کی موت ڈاکٹر کی کوتاہی سے واقع ہوئی ہو۔"


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دوران زچگی فوت ہونے والی عورت کو شہداء میں شمار کیا گیا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد گرامی ہے کہ وہ عورت جو بچے کی پیدائش کے سبب فوت ہو جائے شہید ہے۔[1]شرعی اصطلاح میں یہ شہادت صغریٰ ہے۔ دین اسلام کی سر بلندی کے لیے میدان کا رزارمیں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا شہادت کبریٰ ہے لیکن دور حاضر میں زچگی کے آپریشن دووجہ سے کیے جاتے ہیں۔

1۔رحم مادر میں بچے کی حالت بایں طور پر ہوتی ہے کہ نارمل طریقہ سے اس کی پیدائش ممکن  نہیں ہوتی بلکہ ایسے حالات میں آپریشن ناگزیر ہوتا ہے، ایسے حالات میں اگر دوران آپریشن زچہ فوت ہو جائے تو وہ بلا شبہ شہداء میں ہو گی اگرچہ اس کی موت ڈاکٹر کی کوتاہی سے ہی کیوں نہ ہو۔

2۔بچے کی پیدائش معمول کے مطابق ہونا ممکن ہوتی ہے لیکن بطور فیشن پیدائش کے وقت تکلیف سے بچنے کے لیے آپریشن کا سہارا لیا جاتا ہے حالانکہ زچگی کے دوران تکلیف کی شدت فطرت کے عین مطابق ہے اور اس تکلیف کی وجہ سے پیدائش ممکن ہوتی ہے ایسے حالات میں اگر بلا ضرورت آپریشن کا سہارا لیا جاتا ہے تو اس دوران اگر موت واقع ہو جائے تو اسے شہداء میں شمار کرنا محل نظر ہے بلکہ ایسے حالات میں آپریشن کا سہارا لینا ہی خلاف فطرت ہے(واللہ اعلم)


[1] ۔مسند امام احمد،ص:201۔ج4۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 482

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)