فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 20749
(579) یتیمی کی مدت
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 09 April 2017 03:02 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر کسی کا والد فوت ہو جائے تو وہ کس وقت تک یتیم رہتا ہے شریعت نے اس کی کیا حد مقرر کی ہے؟کتاب وسنت سے اس کی وضاحت کریں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ احتلام کے بعد یتیمی نہیں ہے۔(بیہقی،ص:320،ج7)امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ  نے اس پر بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے۔

"یتیمی کب ختم ہو تی ہے"اس کا مطلب یہ ہے کہ بچے اس وقت تک یتیم رہتے ہیں جب تک وہ بالغ نہ ہوں ،اگر بالغ ہو جائیں تو شرعاً یہ حالت ختم ہو جاتی ہے اب یہ سوال کہ انسان بالغ کب ہوتا ہے؟مختلف احادیث کے پیش نظر اس کی تین علامتیں ہیں ۔

1۔بچے کو احتلام آجائے یا بچی حالت حیض سے دوچار ہو جائے جیسا کہ مذکورہ حدیث میں ہے۔[1]

2۔جب بچے یا بچی کی عمر پندرہ سال ہو جائے جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا بیان ہے کہ غزوہ اُحد کےدن چودہ چودہ سال کے تھے تو انہیں جنگ میں شرکت کی اجازت نہ ملی تھی لیکن آئندہ سال جب پندرہ برس کے ہوئے تو غزوہ خندق میں شرکت کی اجازت مل گئی۔

زیر ناف بال اُگ آئیں چنانچہ حدیث میں ہے کہ غزوہ بنی قریظہ کے دن جس شخص کے زیر ناف بال اُگے ہوئے ہوتے اسے قتل کر دیا جاتا اور جس کے بال نہ ہوتے اسے چھوڑ دیا جاتا۔[2]

بہر حال بلوغ کے بعد یتیمی کی حالت ختم ہوجاتی اور بلوغ کی مذکورہ بالا تین علامتیں ہیں۔


[1] ۔صحیح بخاری ،الغازی:9740۔

[2] ۔ابو داؤد۔حدیث :4404۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 480

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)