فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 20741
(571) مردوں کے لیے سونے کا دانت لگانا؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 09 April 2017 02:49 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مردوں کے لیے سونے کا دانت لگواناجائز ہے یا نہیں؟اگر جائز ہے تو کلی کرتے وقت اسے اتارنا ہوگا یا اتار ےبغیر کلی کرنا صحیح ہوگا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر سونے کا دانت مردوں کی مجبوری اور ضرورت ہوتو مرد حضرات سونے کا دانت لگواسکتے ہیں بصورت دیگر جائز نہیں ہے کیونکہ حدیث کے مطابق مردوں کے لیے سونا پہننا اور انہیں بطور زیورات استعمال کرنا حرام ہے عورتیں اگر سونے کا دانت بطور زیب و زینت استعمال کرتی ہوں تو جائز ہے بصورت دیگر اسراف ہے اس کی اجازت نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا میری اُمت کی عورتوں کے لیے سونے اور ریشم کو حلال قراردیا گیا ہے۔[1]

اگر کسی نے ضرورت کے پیش نظر سونے کا دانت لگوایا تھا تو فوتگی کے بعد اگر آسانی سے اتاراجا سکے تو اسے اتارلینا چاہیے کیونکہ سونا مال ہے اور وفات کے بعد وہ اس کے وارثوں کا ہوچکا ہے، اگر کسی نے مصنوعی دانت لگوائے ہوں تو وضو یا غسل کرتے وقت انہیں اتارنا ضروری نہیں ہے کیونکہ دانتوں کا اپنی جگہ سے باربار اتارنا اور انہیں دوبارہ لگانا بہت مشکل کام ہے، اس بنا پر وضو کرتے وقت انہیں اتارنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے۔


[1] ۔ترمذی،اللباس:1720۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 475

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)