فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 20739
(569) ربع دینار چور پر ہاتھ کاٹنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 09 April 2017 02:40 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

حدیث میں ہے کہ ربع دینار کی مالیت پر چوری کرنے سے ہاتھ کاٹا جائے گا ،موجودہ حساب سے ربع دینار کتنی مالیت کا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"چور کا ہاتھ صرف ربع دینار یا اس سے زیادہ مالیت چور کرنے پر کاٹا جائے۔ ایک روایت میں ہے کہ اس وقت ربع دینار تین درہم کے برابر تھا۔[1]سونے کے نصاب سے متعلق روایات سے پتہ چلتا ہے کہ دینار مثقال کے برابر ہوتا تھا موجودہ نظام ایک مثقال ساڑھے چار ماشہ کے مساوی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ دینار کا وزن بھی ساڑھے چار ماشہ ہے اس حساب سے ربع دینار 125،1ماشہ کا ہوگا اعشاری نظام کے مطابق 3تولہ کے 35 گرام ہوتے ہیں جبکہ تین تولہ 36ماشہ کے مساوی ہے۔اس اعتبار سے گرام اور ماشہ میں معمولی سافرق ہے۔ ہمارے رجحان کے مطابق ایک گرام سونا یا اس کی مالیت کے برابر چوری کرنے پر ہاتھ کاٹا جائے گا، جب ہاتھ سے جرم کیا ہے تو اللہ کے ہاں اس کی یہ حیثیت ہے کہ معمولی سی مالیت چوری کرنے پر اسے کاٹ کر پھینک دیا جاتا ہے اس کے برعکس جب ہاتھ بے گناہ اور معصوم ہوگا تو اس کی قیمت اللہ کے ہاں یہ ہے کہ ایک انگشت کی دیت دس اونٹ ہیں یعنی اگر کسی نے ایک انگلی ضائع کردی ہے تو اسے دس اونٹ دیت دینا ہوں گے۔[2]


[1] ۔مسند امام احمد،ص:80۔ج6۔

[2] ۔جامع ترمذی ،الدیات۔1391۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 473

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)