فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 20738
(568) شکم مادر میں بچے کی روح کب پڑتی ہے۔
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 09 April 2017 02:39 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک حدیث میں ہے کہ ماں کے پیٹ میں حمل کے چوتھے مہینے جنین میں روح پڑتی ہے جبکہ جدید طب کے مطابق حمل کے چوتھے یا پانچویں ہفتے بچہ حرکت کرنے لگ جاتا ہے۔ حدیث کی صداقت کے متعلق ہمیں پورا یقین ہے البتہ طب جدید سے اس کی مطابقت کیسے ہو گی؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہمارے نزدیک رحم مادر میں جنین کے حرکت کرنے کو اس کی زندگی سے منسلک کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ خارجی یا داخلی اسباب کی وجہ سے بہت سی بے جان چیزیں حرکت کرتی نظر آتی ہیں۔ اس امر کے متعلق طب جدید کے ماہرین ابھی تک کوئی متفقہ مؤقف اختیار نہیں کر سکے کہ دوران حمل انسانی زندگی کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے؟کچھ حضرات کا خیال ہے کہ جب مرد اور عورت کا نطفہ آپس میں مل کر کائنات کے چوہدری یعنی انسان کی پہلی انیٹ بن جائے تو اسی وقت سے اس کی زندگی کا آغاز ہو جاتا ہے۔جبکہ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ مرد کے نطفہ میں جو کروڑوں کیڑے متحرک ہیں جس سے اس عالم رنگ و بو کی تمام عورتوں کو بارآور کیا جاسکتا ہے، اس نطفہ کے ساتھ انسانی زندگی کو کیوں نہ منسلک کیا جائےجدید سائنسی آلات مائیکر و سکوپ اور الٹراساؤنڈمشین کی ایجاد نے ماہرین طب کو اس قابل بنادیا ہے کہ وہ ان کی مدد سے رحم مادر میں نشو و نماز پانے والے جنین کے متعلق معلومات حاصل کر سکیں لیکن ان تمام تر انکشافات کے باوجود ان حضرات کے لیے یہ بات معمہ بنی ہوئی ہے کہ جنین میں روح کب پھونکی جاتی ہے ؟ تاہم قرآن کریم اور احادیث نے اس سر بستہ راز کو آج سے چودہ سو سال قبل ہی ظاہر کر دیا تھا ارشاد باری تعالیٰ ہے۔"اور ہم نے انسان کو ایک منتخب مٹی سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے نطفے کی شکل میں ایک ساکن جگہ میں رکھا پھر ہم نے اس پانی کی بوند کو جما ہوا خون بنادیا پھر جمے ہوئے لہو سے گوشت کی بوٹی بنائی پھر اس بوٹی سے ہڈیاں بنائیں پھر ان ہڈیوں کو گوشت کا لباس پہنایا پھر اس کو ایک نئی صورت میں لا کھڑا کیا۔"[1]

اس آیت کریمہ میں گوشت اور ہڈیوں کے مرحلہ کے بعد کا مرحلہ بیان ہوا ہے جس کے لیے حرف"ثم"استعمال کیا گیا ہے۔ یہی وہ وقفہ ہے جس میں جنین کے اندر روح پھونکی جاتی ہے حدیث میں اس کی مزید وضاحت ہے۔

"تمھاری پیدائش کا سلسلہ یوں ہے کہ ماں کے پیٹ میں چالیس دن نطفہ ٹھہرتا ہے پھر خون کا ٹکڑا بنتا ہے چالیس دن اس حالت میں رہتا ہے پھر وہ گوشت کا ٹکڑا بنتا ہے اور چالیس دن اس حالت میں رہتاہےاس کے بعد اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو بھیجتے ہیں اور اس میں روح پھونک دی جاتی ہے ۔"[2]

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جنین میں روح پھونکنے کا مرحلہ 120۔دن یعنی چار ماہ کے بعد ہے۔(واللہ اعلم)


[1] ۔23/المومنون:14،12۔

[2] ۔صحیح بخاری،التوحید:4547۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 472

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)