فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 20737
(567) زیر سماعت کیس مجرم کو معاف کرنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 09 April 2017 02:37 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک آدمی نے چوری کی سامان کے مالک نے عدالت میں دعوی دائر کر دیا کیا وہ عدالت میں جانے کے بعد چور کو معاف کر سکتا ہے تاکہ اس سے حد ساقط ہو جائے ،قرآن و سنت اس معاملہ میں ہماری کیا راہنمائی کرتے ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ تعالیٰ خود معاف کرنے والا ہے اور معافی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے لیکن چوری کے معاملات عدالت میں جانے سے پہلے پہلے معاف ہوتے ہیں۔جب کوئی معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہو تو مالک کو معاف کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمرو  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"آپس میں حدود معاف کردو اور جس حد کا معاملہ میرے پاس آجائے تو وہ واجب ہو جائے گی۔[1]

ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک چور کا چوری کرنا ثابت ہونے پر ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو جس کی چوری ہوئی تھی اس نے کہا میں نے یہ چیز سے ہبہ کردی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"اسے میرے پاس لانے سے پہلے تونے ایسا کام کیوں نہ کیا ۔"[2]

اگرچہ کچھ آئمہ کرام کا مؤقف ہے کہ عدالت میں جانے کے بعد بھی اگر مالک معاف کردے تو حد ساقط ہو جائے گی لیکن مذکورہ احادیث سے اس مؤقف کی تردید ہوتی ہے لہٰذا عدالت میں پہنچنے سے پہلے پہلے معاف کردینے کا حق ہے اس کے بعد وہ ایسا نہیں کر سکتا ۔(واللہ اعلم)


[1] ۔ابو داؤد،الحدود:4376۔

[2] ۔مستدرک حاکم ۔ص:38۔ج4۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 472

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)