فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 20736
(566) بریرہ نام رکھنا؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 09 April 2017 02:36 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے دوست کے ہاں بچی پیدا ہوئی تو میں نے اس کا نام بریرہ تجویز کیا میرے دوست نے کہا کہ بریرہ نامی عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ایک مرتبہ کہا نہیں مانا تھا ، اس لیے مجھے یہ نام پسند نہیں ہے اس واقعہ کی کیا حقیقت ہے کیا اس وجہ سے یہ نام نہیں رکھنا چاہیے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   ایک قابل قدر صحابیہ ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا اس پر بڑا اعتماد تھا دراصل  واقعہ یہ ہے کہ جب وہ لونڈی تھیں تو مغیث رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نامی ایک صحابی سے نکاح کر دیا گیا جو کسی کے غلام تھے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   نے اسے خرید کر آزاد کر دیا تو اسے اپنے خاوند کی زوجیت میں رہنے کا اختیار دیا گیا چونکہ وہ آزاد ہو چکی تھیں اس لیے انھوں نے ایک غلام کی زوجیت میں رہنا پسند نہ کیا ،بلکہ اس نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر میرا خاوند مجھے اتنی رقم بھی دے تب بھی میں اس کے ہاں رہنے کو تیار نہیں ہوں۔[1]

دوسری طرف مغیث رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو ان سے بڑی محبت تھی وہ مدینہ طیبہ کے گلی کوچوں میں اپنی بیوی کے فراق سے روتے اور آنسو بہاتے رہتے، حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کہتے ہیں میں نے اسے دیکھا کہ وہ بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کے پیچھے روتا رہتا اور روتے روتے اس کی داڑھی تر ہو جاتی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے یہ کیفیت دیکھ کر حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے فرمایا مغیث کی بریرہ سے محبت اور بریرہ کی اس سے نفرت باعث تعجب ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کو بلا کر کہا کہ تم اسے اختیار کر لو اور اپنے مؤقف سے رجوع کر لو،حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  !اگر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا حکم ہے تو مجھے بسرو چشم قبول ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا حکم نہیں بلکہ میں اس کی صرف سفارش کرتا ہوں ، حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   نے عرض کیا اگر آپ کا صرف مشورہ ہے حکم نہیں ہے تو مجھے اس مغیث کی کوئی ضرورت نہیں۔[2]

واقعہ کی حقیقت تو اس قدر ہے، اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے کسی قسم کی نفرت یا ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا کہ اس نے میرا مشورہ یا سفارش نہیں مانی ہے۔ لہٰذا مجھے اس سے نفرت ہے، احادیث میں اس قسم کی بات کا کوئی سراغ نہیں ملتا بلکہ اس پاکبازعورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   پر جب تہمت لگی تو آپ کا پورا پورا دفاع کیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے زبردست دباؤ کے باوجود انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کی عفت وپکدامنی کو بڑے خوبصورت انداز میں بیان کیا، ایسے حالات میں کسی مسلمان کو حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   یا ان کے نام سے نفرت نہیں ہو نی چاہیے۔انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے کسی امر کو نظر انداز نہیں کیا ، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی وساطت سے ملنے والے اختیارات کو استعمال کیا ہے اور یہ ان کا ایک حق تھا (واللہ اعلم)


[1] ۔صحیح بخاری،الفرائض :6858۔

[2] ۔صحیح بخاری ،الطلاق :5283۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 471

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)