فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 20735
(565) قسم کو پورا کرنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 09 April 2017 02:34 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نے قسم اٹھائی تھی کہ فلاں کام کروں گا لیکن میں اسے کر نہیں سکا، اس کام کا وقت بھی گزر چکا ہے اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟وضاحت کریں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب کوئی مسلمان قسم اٹھا ئے تو اسے پورا کرنے کی بھر پور کوشش کرے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَاحفَظوا أَيمـٰنَكُم ...﴿٨٩﴾... سورةالمائدة

"اپنی قسموں کی حفاظت کیا کرو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد گرامی ہے ۔"کہ قسم کو پورا کرو کیونکہ قسم توڑنے والے پر گناہ ہوتا ہے۔"[1]

اگر کوئی آدمی کسی وجہ سے قسم پوری نہیں کر سکا تو اسے اس کا کفارہ دینا چاہیے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:

﴿ فَكَفّـٰرَتُهُ إِطعامُ عَشَرَةِ مَسـٰكينَ مِن أَوسَطِ ما تُطعِمونَ أَهليكُم أَو كِسوَتُهُم أَو تَحريرُ رَقَبَةٍ فَمَن لَم يَجِد فَصِيامُ ثَلـٰثَةِ أَيّامٍ ...﴿٨٩﴾... سورةالمائدة

"قسم توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ دس مساکین کو اوسط درجے کا کھانا دیا جائے جو اپنے گھر والوں کو تم کھلاتے ہو یا انہیں لباس دیا جائے یا ایک غلام یا لونڈی آزادکی جائے اور جس کو استطاعت نہ ہووہ تین دن کے روزے رکھے۔"

اب لونڈی یا غلام دستیاب نہیں ہیں۔ صرف اوسط درجے کاکھانا یا انہیں لباس بنا کر دینا ہے اگر کوئی آدمی صاحب ثروت نہیں تو اسے تین دن کے روزے رکھنے کا حکم ہے۔ واضح رہے کہ کفارہ قسم میں جن اشیاء کا ذکر ہے مثلاً کھانا یا لباس وغیرہ ہی دینا چاہیے اس کی قیمت ادا کرنا صحیح نہیں (واللہ اعلم)


[1] ۔مسند امام احمد،ص:114۔ج6۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 470

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)