فتاویٰ جات: علاج ومعالجہ
فتویٰ نمبر : 20672
(502) گنجے پن کی دوا لینا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 09 April 2017 10:25 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

آج کل گنجے پن کا ایک علاج دریافت ہوا ہے کہ بال اگائے جاتے ہیں،ایسا علاج شرعاً کیا حیثیت رکھتاہے کیا ایسا کرنا جائز ہے؟کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بالوں کی پیوند کاری تو حرام ہے یعنی مصنوعی بالوں کو دوسرے بالوں کے ساتھ جوڑنا مصنوعی بالوں کو ہی استعمال کرنا شرعاً یہ فعل حرام اور ناجائز ہے ،انصار کی ایک لڑکی بیمار ہوئی تو اس کے بال گر گئے،اہل خانہ نے مصنوعی بال پیوند کرنے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اس عورت پر جو بال  پیوند کرتی ہے یا کراتی ہے۔"

حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  جب حج سے فراغت کے بعد مدینہ طیبہ تشریف لائے تو انہیں مصنوعی بالوں کاگچھا ملاتو انہوں نے خطبہ دیا اور فرمایا:"اے اہل مدینہ!تمہارے علماء کدھر ہیں؟بنی اسرائیل کی ہلاکت اسی وجہ سے ہوئی تھی کہ ان کی عورتوں نے ان مصنوعی بالوں کو استعمال کرنا شروع کردیاتھا۔"[1]

البتہ بال اگانے کاطریقہ طب جدید کا کشید کردہ ہے،یہ مصنوعی نہیں بلکہ اس طریقہ سے حقیقی بال اگائے جاتے ہیں۔اس قسم کے علاج میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے۔اس کےمتعلق وہ حدیث بطور دلیل پیش کی جاسکتی ہے کہ فرشتے نے ایک گنجے کے سرپر ہاتھ پھیرا تھا تو اس کے خوبصورت بال اگ آئے تھے ،جیسا کہ ایک حدیث میں اس کا ذکر ہے۔"[2]

اس حدیث کے پیش نظر ہمارارجحان ہے کہ بالوں کو کاشت کرنے میں کوئی حرج نہیں البتہ پیوندکاری حرام ہے۔


[1] ۔صحیح بخاری اللباس:5932۔

[2] ۔ صحیح بخاری احادیث الانبیاء:3464۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 420

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)