فتاویٰ جات: معاملات
فتویٰ نمبر : 20615
(446) کسی معاہدے کے تحت مطلقہ بیوی سے تعلقات رکھنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 05 April 2017 04:21 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے ایک دوست نے اپنی بیوی کو ایک معاہدے کے تحت طلاق دی ہےکہ وہ اس کے بچوں کی پرورش کرتی رہے ،اسے پرورش اور اس محنت کا خرچہ ملتا رہے گا،سابقہ خاوند ہر مہینے اس کے پاس خرچہ دینے کے لیے جاتا ہے اور وہاں رات بھی گزارتا ہے،کیا شریعت میں اس امر کی گنجائش ہے کہ آدمی اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد اس سے تعلقات رکھے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آدمی جب اپنی بیوی کو کسی وجہ سے طلاق دیتا ہے تو وہ پہلی اور دوسری طلاق کے بعد دوران عدت اسکی بیوی ہی شمار  ہوتی ہے،اس دوران اگر کسی کی وفات ہوجائے تو ان کے مابین تقسیم وراثت کا معاملہ قائم رہتا ہے اور جب عدت ختم ہوجائے تو  نکاح ختم ہوجاتا ہے اور وہ بیوی اس خاوند کے لیے ایک اجنبی عورت کی حیثیت اختیار کرلیتی ہے،عدت  گزارنے کے بعد خاوند کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اس سے میل ملاپ یا تعلقات رکھے،اگر تیسری طلاق بھی دے ڈالی ہے تو پھر طلاق دیتے ہی رشتہ زوجیت ختم ہوجاتا ہے۔اب مطلقہ عورت کااپنے سابقہ خاوند سے اتنا ہی تعلق ہوگا جتنا ایک اجنبی شخص سے ہوتا ہے ۔اولاد کی پرورش کے بہانے ان کا ایک دوسرے کو دیکھنا،خلوت کرنا یا وہاں رات گزارنا جائز نہیں ہے،شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  لکھتے ہیں:تین طلاق والی عورت اپنے سابقہ خاوند کے لیے باقی اجنبی عورتوں کی طرح ہے،اس بنا پر مرد کےلیے جائزنہیں کہ وہ اس کے ساتھ خلو ت کرے کیونکہ وہ کسی بھی اجنبی عورت کے ساتھ خلوت نہیں کرسکتا۔اسی طرح اس کے لیے اسے دیکھنا  بھی جائز نہیں ہے کیونکہ وہ اس کے لیے اب اجنبی بن چکی ہے نیز اس خاوند کو اب کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔[1]

اولاد کی پرورش اور اس کے لیے خرچہ بھیجنے کی اور بہت سی صورتیں ممکن ہیں،وہ خرچہ بذریعہ ڈاک بھی روانہ کیا جاسکتا ہے ،کسی محرم کے ذریعے بھی دیا جاسکتا ہے۔بہرحال عدت کے بعد خاوند کا اپنی سابقہ بیوی کے پاس آناجانا شرعاً درست نہیں ہے کیونکہ وہ عورت اس کی بیوی نہیں رہی بلکہ ایک اجنبی عورت کی حیثیت اختیار کرچکی ہے ۔(واللہ اعلم)


[1] ۔ مجموع الفتاویٰ ،ص:349،ج3۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد3۔صفحہ نمبر 376

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)