فتاویٰ جات: تعلیم وتعلم
فتویٰ نمبر : 20131
(762) انگریزی زبان کے کورس وغیرہ میں دھوکہ اور خیانت کا حکم
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 26 March 2017 04:36 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

انگریزی زبان اور دوسرے علوم مثلاً ریاضی وغیرہ میں دھوکے کا کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

چاہے جو بھی مضمون ہو اس میں دھوکہ جائز نہیں کیونکہ امتحان کا مقصد اس مضمون میں طالب کے علمی معیار کو متعین کرنا اور اس کی اصلاح کرنا ہے اور اس لیے بھی کہ خیانت کے ذریعہ اس میں سستی دھوکہ اور کمزور طالب علم کو محنتی پر مقدم کرنا لازم آتا ہے اللہ کے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا:

"من غشنا فليس منا"[1]"

"جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں"

حدیث میں"غش"کا لفظ ہر چیز کے لیے عام ہے واللہ اعلم۔(فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن جبرین)


[1] ۔صحیح مسلم رقم الحدیث (101)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

عورتوں کےلیے صرف

صفحہ نمبر 671

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)