فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 19362
(1235) اہل فترۃ اور جو اِن کے حکم میں ہیں
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 28 February 2017 11:06 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میری والدہ بڑی عمر کی ہے، شروع ہی سے نہ سکتی ہے نہ بولتی ہے، بلکہ اشاروں سے بات کرتی ہے۔ اسے نماز روزے کی کوئی سمجھ نہیں ہے، تو اس کا کیا حکم ہے؟ اور اس کے متعلق مجھے کیا حکم ہے جبکہ میں اس کا بڑا بیٹا ہوں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ عورت دینی اعتبار سے مسلمان ہے کیونکہ مسلمان ماں باپ کے ہاں پیدا ہوئی ہے، اور آخرت میں بھی مسلمان ہی ہو گی۔ قول راجح یہ ہے کہ مسلمانوں کے بچے اپنے ماں باپ کے حکم میں ہیں، اور ان کا آخرت میں امتحان نہیں ہو گا۔ مگر کافروں کے بچوں کا حکم مسلمانوں کا سا نہیں ہے۔ اگر ان میں سے کوئی فوت ہو جائے تو اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جائے گا، کیونکہ وہ احکام دنیا میں کافر ہے، ان کے ساتھ کفار والا معاملہ ہو گا۔ اور آخرت میں صحیح قول کے مطابق ان کا امتحان لیا جائے گا۔ اور ایسے ہی وہ لوگ بھی جن کو دعوت اسلام نہ پہنچی ہو۔ مگر یہ معلوم نہیں کہ ان کا امتحان کیسے ہو گا۔ البتہ جس نے اطاعت کی وہ جنت میں جائے گا اور جو نافرمان ہوا وہ جہنم میں جائے گا۔ (محمد بن صالح عثیمین)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 873

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)