فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 19320
(1193) دوشیزاؤں کی مراسلہ نگاری کا حکم
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 27 February 2017 04:19 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

دوشیزاؤں کی مراسلہ نگاری کا کیا حکم ہے؟ اگر یہ مراسلات ادبی اور شعری کے ہوں تو کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر یہ خطوط غیر محرم مردوں کو لکھے جائیں، تو ان میں کئی فتنوں اور خطرات کا اندیشہ ہے۔ اس کے لیے جائز نہیں ہیں، خواہ یہ لڑکی ادیبہ اور شاعرہ ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ مصالح کی نسبت مفسدہ کو دور کرنا مقدم ہوتا ہے اوربہت سے مواقع پر نوجوان لڑکے لڑکیوں کی یہ خط و کتابت اور ان کا غلط تعارف برے نتائج کا باعث بنا ہے۔ (صالح بن فوزان)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 845

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)