فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 19159
(1032) ایام مخصوصہ میں تفاسیر کا مطالعہ کرنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 22 February 2017 12:51 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں کچھ تفسیر پڑھاتی ہوں اور صفوۃ التفاسیر جیسی کتابوں سے قراءت کرنی ہوتی ہے جبکہ میں بعض اوقات ایام ماہانہ کی وجہ سے طاہر بھی نہیں ہوتی۔ کیا اس بارے میں مجھ ہر کوئی حرج ہے اور کیا میں گناہ گار ہوں گی؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حائضہ اور نفاس والی کے لیے کتب تفسیر پڑھنے میں کوئی حرج نہیں اور اسی طرح ہاتھ لگائے بغیر قرآن کی تلاوت میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ علماء کا صحیح تر قول یہی ہے۔

البتہ بحالت جنابت قبل از غسل قراءت کرنا کسی طرح درست نہیں ہے۔ اسی طرح کتب تفسیر بھی (بحالت جنابت) پڑھ سکتی ہے، مگر اس میں وارد آیات نہیں پڑھ سکتی۔ کیونکہ احادیث میں ہے کہ:

إنه كان لا يحجزه شىء من قراءة القرآن إلا الجنابة

"آپ کو جنابت کے علاوہ قراءت قرآن سے اور کوئی چیز نہ روکتی تھی۔" (سنن ابن ماجہ،کتاب الطہارۃوسننھا،باب ماجاءفی قراءۃالقرآن علی غیر طہارۃ،حدیث:594سنن ابی داود،کتاب الطہارۃ،باب فی الجنب یوخر الغسل،حدیث:229مسند ابی داود الطیالسی:1/17،حدیث:151۔)

اسی طرح مسند احمد میں ایک دوسری حدیث کے ضمن میں آیا ہے:

(فاما الجنب فلا ولا آية) "اور جنبی کے لیے قراءت قرآن جائز نہیں اور نہ اس کی کوئی آیت۔" (مسند احمد بن حنبل:1/110،حدیث:872۔)

اس روایت کی سند جید (یعنی عمدہ) ہے۔ (عبدالعزیز بن باز)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 726

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)