فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 1868
(367) مختلف مقامام کی زیارت کرنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 27 August 2012 12:49 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جناب حافظ صاحب آپ نے جو حدیث زیارت قبور کے لیے نقل کی ہے۔ وہ سر آنکھوں پر آپ نے بتایا ہے کہ مرد اور عورت دونوں شامل ہیں یہ بھی پڑھ لیا اور میں نے ایک کتاب (الوسیلہ) امام ابن تیمیہ کی پڑھی جس میں ہمارے پیغمبر کی ایک حدیث آنکھوں کے سامنے سے گذری جس میں لکھا ہوا تھا۔ کہ تین مقامات کی زیارت کے لیے سفر کرنے کی نیت کی جاتی ہے ۔ جس میں بیت المقدس بیت اللہ ۔ مسجد نبوی کا ذکر تھا ۔ اور اس کے علاوہ کسی چیز کی زیارت کے لیے سفر کیسے کیا جائے ۔ اگر کسی قبر کی زیارت کے لیے جائیں گے تو سفر تو ہو جائے گا ۔ اور نیت بھی ہو جائے گی ۔ یہ ذرا سمجھا دیں ۔ مہربانی ہو گی؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب ’’الوسیلہ‘‘ میں جو حدیث آپ نے پڑھی وہ اس بندہ نے بھی اپنے مکتوب میں لکھی تھی آپ اس میں دیکھ لیں ’’اس اجازت میں مرد وعورت دونوں شامل ہیں مگر شرط یہ ہے کہ محض زیارت قبور کی خاطر شدر حال نہ ہو اور عورت بکثرت زیارت نہ کرے کیونکہ حدیث میں ہے : «لاَ تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلاَّ إِلٰی ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ» الخ شدر حال سے مراد سفر ہے تو میری تحریر کا مطلب یہی ہے ’’مگر شرط یہ ہے کہ محض زیارت قبور کی خاطر سفر نہ ہو‘‘ الخ

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

جنازے کے مسائل ج1ص 267

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)