فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 1865
(364) تعزیتی محفلوں اور جلسوں کا حکم
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 27 August 2012 11:11 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کسی کے مرنے کے بعد بھورے پر بیٹھ کر اجتماعی صورت میں یا انفرادی صورت میں یا کسی اور تعزیتی محفل میں ہاتھ اٹھا کر اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا شرعی اعتبار سے کیا حکم ہے جبکہ مومن کے لیے مغفرت کی دعا کرنا قرآن وحدیث سے ثابت ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کسی کے مرنے کے بعد بھورے پر بیٹھ کر اجتماعی یا انفرادی طور پر ہاتھ اٹھا کر میت کے لیے دعا کرنا رسول اللہﷺسے ثابت نہیں تعزیتی محفلوں اور جلسوں کا بھی یہی حکم ہے۔ قیود صرف رواج کے پیش نظر لگائی گئی ہیں۔

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

جنازے کے مسائل ج1ص 265

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)