فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 1864
(363) اظہار تعزیت کا طریقہ
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 27 August 2012 11:06 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا موجودہ طریقہ جو مروج ہے تین دن تک پٹی یا صفیں بچھا کے بیٹھنے کا یہ طریقہ درست ہے اور کیا وہاں جا کر دعا کی جا سکتی ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ احداد وسوگ عورتوں کے لیے ہے عام رشتہ داروں پر تین دن اور شوہر پر چار ماہ دس دن یا عدت تک۔ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے :

«مَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ باﷲِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلٰی مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلٰی زَوْجٍ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا»

’’نہیں جائز کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے کہ وہ سوگ کرے کسی میت پر تین دن سے زیادہ مگر خاوند پر پس بے شک وہ خاوند پر چار ماہ دس دن سوگ کرے‘‘(کتاب الجنائز صحیح بخاری،باب احداد المراۃ علی غیر زوجہا)  موجودہ طریقہ مروجہ تین دن تک پٹی یا صفیں بچھا کے بیٹھنا کسی آیت یا حدیث میں وارد نہیں ہوا پھر وہاں رائج دعا کا بھی کہیں ذکر نہیں ملتا تعزیت میں میت والوں کو صبر کی تلقین کرے ان کی ڈھارس بندھائے اورانہیں تسلی دلائے۔

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

جنازے کے مسائل ج1ص 264

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)