فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 18510
(384) میت پو نوحہ اور بین کرنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 31 January 2017 11:24 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کچھ عورتوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ جب وہ کسی میت والے کے ہاں تعزیت کے لیے آتی ہیں تو چیختی چلاتی اور ہائے وائے کرتی ہیں، خود روتی ہیں اور گھر والوں کو بھی رلاتی ہیں۔ کیا ان کا یہ عمل نوحہ میں شمار ہوتا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

: ہاں، اس کام کے نوحہ ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ کرنے والی اور اسے توجہ سے سننے والی پر لعنت فرمائی ہے (سنن ابی داود، کتاب الجنائز، باب فی النوح، حدیث: 3128 ضعیف، مسند احمد بن حنبل: 3/65، حدیث؛ 11640) لہذا اس طرح کا کام حلال نہیں ہے۔ بلکہ گھر والوں کو جائز نہیں ہے کہ وہ اسے اس طرح کرنے کی اجازت دیں۔ بلکہ ان پر لازم ہے کہ اگر وہ ہمیشہ اسی طرح ہی کرتی ہو تو اسے گھر سے باہر نکال دیں۔ (محمد بن صالح عثیمین)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 325

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)