فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 18484
(358) اپنے مرنے کی دعا کرنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 30 January 2017 04:56 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کوئی شخص اپنے مرنے کی دعا کرے، اس کا کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

موت مانگنا جائز نہیں ہے بلکہ اس کی تمنا کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ نبی علیہ السلام کا فرمان ہے: "تم میں سے کوئی شخص کسی دکھ تکلیف آ جانے کی وجہ سے مرنے کی ہرگز تمنا نہ کرے، اگر ضروری ہی چاہے تو یوں کہے:

(اللهم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي ، وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي)

"اے اللہ! مجھے زندہ رکھ جب تک میرا زندہ رہنا میرے لیے بہتر ہو،  اور مجھے وفات دے جب میرا مر جانا میرے لیے بہتر ہو۔" (صحیح بخاری، کتاب المرضی، باب نھی تمنی المریض الموت، حدیث: 5347 و صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعا، باب تمنی کراھۃ الموت یضر نزل بہ، حدیث: 2580 و سنن ترمذی، کتاب الجنائز، باب النھی عن تمنی للموت، حدیث: 970 و مسند احمد بن حنبل: 3/101، حدیث: 11998)

اسی طرح آپ علیہ السلام کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ بھی ہے:

(اللهم بعلمك الغيب، وقدرتك على الخلق، أحيني ما علمت الحياة خيرا لي، وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي.)

"اے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم غیب اور مخلوق پر قدرت کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک زندہ رہنا میرے لیے بہتر ہو، اور مجھے وفات دے اس وقت جب میرا مر جانا میرے لیے بہتر ہو۔" (صحیح ابن حبان: 5/304، حدیث: 1971 و مسند احمد بن حنبل 4/264، حدیث: 18351۔ صحیح المستدرک للحاکم: 1/705، حدیث: 1923 ۔۔ (عربی)، کے الفاظ کے ساتھ سنن نسائی، کتاب صفۃ الصلاۃ، حدیث: 1305۔)

ہم آپ کو یہ دعا کرنے کی نصیحت کرتے ہیں کہ اللہ آپ کے حالات درست فرمائے اور وہ کچھ مقدر فرمائے جس میں آپ کے لیے ہر طرح کی خیر و صلاح، اور عاقبت بہترین ہو۔ (عبدالعزیز بن باز)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 303

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)