فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 18243
(117) بحالت وضو اپنی ماں یا بہن کو ہاتھ لگانا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 28 December 2016 01:12 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر مرد نے بحالت وضو اپنی ماں یا بہن کو ہاتھ لگایا تو کیا اس سے اس کا وضو ٹوٹ جاتا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس مسئلہ میں صحیح بات یہ ہے کہ عورت کو ہاتھ لگانے سے خواہ وہ اس کی بیوی ہو یا کوئی اور، اس کا وضو نہیں ٹوٹتا ہے، اور اس مسئلے میں علماء کے تین اقوال ہیں:

(1) مطلقا کسی بھی عورت کو ہاتھ لگا دے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

(2) مطلقا کسی بھی عورت کو ہاتھ لگا دے تو وضو نہیں ٹوٹتا ہے۔

(3) اس میں تفصیل ہے کہ اگر تلذز اور صنفی جذبات کے تحت ہاتھ لگائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے ورنہ نہیں۔

اور ان اقوال میں سے دوسرا ہی راجح ہے کہ مطلقا نہیں ٹوٹتا ہے۔ کیونکہ احادیث سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض اوقات اپنی کسی زوجہ کا بوسہ لیا، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔( سنن ابی داود، کتاب الطھارۃ، باب الوضوء من القبلۃ، حدیث: 178، 179 ضعیف۔ سنن الترمذی، کتاب الطھارۃ، باب ترک الوضوء من القبلۃ، حدیث: 86 و سنن ابن ماجہ، کتاب الطھارۃ، باب الوضوء من القبلۃ، حدیث: 502۔) اور اصولی قاعدہ ہے کہ طہارت قائم اور باقی رہتی ہے، یہ کسی واضح دلیل کے تحت ہی زائل ہو سکتی ہے۔ اور عورتوں کا لمس ایسا معاملہ ہے جو لوگوں کو گھروں کے اندر اکثر و بیشتر آتا رہتا ہے۔ اگر عورت کا لمس وضو کو توڑنے کا باعث ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے غافل نہ رہتے بلکہ یقینا وضاحت سے بیان فرماتے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم "بلاغ مبین" سے موصوف ہیں یعنی خوب وضاحت سے بیان فرمانے والے ہیں۔

رہا آیت کریمہ کا مفہوم جو سورۃ النساء اور المائدہ میں آئی ہے: أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ "یا تم نے عورتوں کو ہاتھ لگایا ہو۔" تو اس سے مراد مباشرت کا عملی ارتکاب ہے جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور اہل علم کی ایک بڑی جماعت نے کہا ہے۔

اور اس مفہوم کے الفاظ "لمس" اور "ملامسہ" سب کا ایک ہی مفہوم ہے یعنی جماع (مباشرت فعلی)۔ ہاں اگر ہاتھ لگانے سے کوئی مذی وغیرہ نکل آئے تو یقینا وضو ٹوٹ جائے گا اور اس پر واجب ہو گا کہ اپنی شرمگاہ اور خصیتین دھوئے اور نماز کے لیے وضو کرے۔ اور اللہ توفیق دینے والا ہے۔ (عبدالعزیز بن باز)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 160

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)