فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 18241
(115) بے ہوشی سے وضو کا ٹوٹنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 28 December 2016 01:08 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا بےہوشی طاری ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہاں بے ہوشی طاری ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ کیونکہ بے ہوشی نیند سے زیادہ قوی ہوتی ہے اور گہری نیند سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اس طرح سنن ابی داود، کتاب الطھارۃ، باب الوضوء من القبلۃ، حدیث: 178، 179 ضعیف۔ سنن الترمذی، کتاب الطھارۃ، باب ترک الوضوء من القبلۃ، حدیث: 86 و سنن ابن ماجہ، کتاب الطھارۃ، باب الوضوء من القبلۃ، حدیث: 502۔)کہ اسے خبر ہی نہ ہو کہ اس سے کچھ (ہوا وغیرہ) نکلی ہے یا نہیں۔ ہاں اگر نیند ہلکی ہو تو اسے اپنے متعلق ہوش اور خبر رہتی ہے لہذا یہ وضو کے لیے ناقض بھی نہیں ہے۔ خواہ لیٹ کر سوئے یا بیٹھ کر، سہارا لے کر سوئے یا بغیر سہارے کے اور بے ہوشی چونکہ نیند سے قوی تر ہوتی ہے، تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے سو واجب ہے کہ وضو کرے۔ (محمد بن صالح عثیمین)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 159

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)