فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 18237
(111) وضو کرتے وقت صابن سے منہ دھونا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 28 December 2016 01:00 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

وضو کرتے وقت صابن سے منہ ہاتھ دھونا کیسا ہے


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

وضو کے وقت منہ ہاتھ کو صابن سے دھونا کوئی شرعی عمل نہیں ہے۔ بلکہ (اگر کوئی اس کا اہتمام کرتا ہے) تو تکلف اور دشواری میں پڑتا اور غلو کا مرتکب ہوتا ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا ہے:

هلك المتنطعون هلك المتنطعون

"تکلف اور دشواری میں پڑنے والے ہلاک ہوئے۔ تکلف اور دشواری میں پڑنے والے ہلاک ہوئے۔" (صحیح مسلم، کتاب العلم، باب ھلک المتنطعون، حدیث: 2670۔ سنن ابی داود، کتاب السنۃ، باب فی لام السنۃ، حدیث: 4608 و مسند احمد بن حنبل: 1/386، حدیث: 3655 و مسند عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔)

آپ نے یہ تین بار فرمایا۔ ہاں اگر اعضاء میلے ہوں اور صابن یا دیگر اشیائے نظافت استعمال کرنے کی ضرورت ہو تو اس میں کوئی حرج بھی نہیں۔ مگر بطور عادت اسے اپنا لینا تکلف اور بدعت ہے لہذا اس سے بچا جائے۔ (محمد بن صالح عثیمین)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 156

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)