فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 18236
(110) وضو سے پہلے دانتوں میں خلال کرنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 28 December 2016 12:56 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا آدمی کے لیے واجب ہے کہ وضو سے پہلے دانتوں میں خلال کرے اور کھانے کے بقیہ ذرات نکال لے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مجھے جو بظاہر معلوم ہوتا ہے یہ ہے کہ وضو سے پہلے ان ذرات کا نکالنا واجب نہیں ہے۔ مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ دانتوں کا صاف کرنا اور رکھنا وضو کا کمال اور زیادہ طہارت کا باعث ہے اور دانتوں کی بیماریوں سے محفوظ رہنے کا بڑا ذریعہ ہے۔ اگر یہ ذرات دانتوں میں رہ جائیں تو منہ سے بدبو آنے لگتی ہے۔ دانتوں اور مسوڑھوں کی بیماریاں آ لیتی ہیں۔ لہذا انسان کو چاہئے کہ کھانا کھا لینے کے بعد خلال کر لیا کرے تاکہ دانتوں میں رہ جانے والے خوراک کے ذرات نکل جائیں۔ مسواک بھی کیا کرے، کیونکہ کھانے سے منہ کی کیفیت بدل جاتی ہے۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک کے بارے میں فرمایا ہے کہ

السواك مطهرة للضم مرضاة للرب

"مسواک منہ کی صفائی اور رب جل و علا کی رضا مندی کا سبب ہے۔" (سنن النسائی، کتاب الطھارۃ، باب الترغیب فی السواک، حدیث: 5 و مسند احمد بن حنبل: 6/74، مسند عائشہ رضی اللہ عنہا۔)

اور یہ دلیل ہے کہ جب بھی ضرورت محسوس ہو منہ کو مسواک سے صاف کر لیا جائے۔ اور علماء کا کہنا ہے کہ جب بھی منہ کا ذائقہ وغیرہ بدل جائے تو مسواک کا استعمال کرنا تاکیدی ہو جاتا ہے۔ (محمد بن صالح عثیمین)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 155

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)