فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 18235
(109) مصنوعی دانت کو کلی کرنے کے لیے اتارنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 28 December 2016 12:54 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر کسی نے مضنوعی دانت لگوائے ہوں تو کیا وضو میں کلی کرتے ہوئے انہیں اتارنا ضروری ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر کسی نے مصنوعی دانت لگوائے ہوں تو ظاہر یہ ہے کہ اسے ان کا اتارنا واجب نہیں ہے اور ان کا معاملہ انگوٹھی سے مشابہ ہے اور وضو کے وقت انگوٹھی کا اتارنا واجب نہیں ہے، بلکہ افضل یہ ہے کہ وہ اسے حرکت دے لے، واجب نہیں ہے۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انگوٹھی پہنتے تھے اور کہیں ثابت نہیں ہوا کہ آپ اسے وضو کے وقت اتارتے بھی ہوں۔ اور یہ انگوٹھی دانتوں کی نسبت جلد تک پانی پہنچنے میں زیادہ رکاوٹ ہے (تو جب انگوٹھی کو اتارنا ثابت نہیں ہے تو دانت کیوں اتارے جائیں) بالخصوص جبکہ بعض لوگوں کے لیے یہ عمل کہ دانت اتاریں اور دوبارہ فٹ کریں بہت زیادہ مشقت کا باعث ہوتا ہے۔ (محمد بن صالح عثیمین)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 155

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)