فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 18202
(76) نغمات اور ترانے
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 28 December 2016 11:03 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ان نغموں کا کیا حکم ہے جو ہمارے نوجوانوں میں بہت مقبول و معروف ہیں اور وہ انہیں اسلامی نغمے کہتے ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر ان نغموں میں اسلامی و شرعی مضامین ہوں اور ان کے ساتھ کسی قسم کی موسیقی اور بجانے کے آلات دف، ڈھولکی وغیرہ نہ ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اور ایک اور ضروری شرط ان کے جواز کی یہ بھی ہے کہ یہ شرعی مخالفات مثلا غلو سے بھی خالی ہوں۔

علاوہ اس کے یہ بھی ہے کہ انہیں معمول اور عادت نہ بنا لیا جائے، ورنہ یہ اپنے سننے والوں کو قرآن مجید کی قراءت سے روکنے کا باعث بن جائیں گے۔ جبکہ سنت نبویہ میں تلاوت قرآن کی بہت زیادہ ترغیب آئی ہے۔ ان نظموں ترانوں کی یہ چاٹ نوجوانوں کو بالخصوص علم نافع اور دعوت الی اللہ کے عمل سے رکاوٹ کا باعث ہو گی۔

نغموں سے دف کا استعمال عید و نکاح کے موقع پر صرف خواتین کی محافل میں جائز ہے نہ کہ مردوں کو۔ (محمد ناصر الدین البانی)

               ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 134

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)