فتاویٰ جات: معاملات
فتویٰ نمبر : 182
عورت کا زیورات میں غیرمسلموں کاشعار اختیار کرنا
شروع از بتاریخ : 06 December 2011 09:49 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے یہاں شادی کے بعد مسلمان عورت ایک قسم کا زیور پہنتی ہے جس کو لچھا کہا جا تا ہے۔ یہ عورت کے شادی شدہ ہونے کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اور اس زیور کو کالی ماتہ کابھی زیور کہا جاتا ہے،کیا یہ پہننا جائز ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نےغیر مسلموں کے شعائر اختیار کرنے سے منع کیا ہے اور ایسے مسلمانوں کو تنبیہ کی ہے جو غیر مسلموں کے شعائر اختیار کرتے ہیں۔ صورت مسئولہ میں اگر تو واقعتا ایسا ہے کہ زیورات کی یہ جو صورتیں متعین ہیں اور ہندو مذہب میں بطور شعائر معروف ہیں تو ان سے مسلمان عورتوں کو اجتناب کرنا چاہیے۔ یہاں کسی مولوی صاحب کے کہنے کا اعتبار نہیں ہو گا بلکہ آپ کو خود یہ سروے کرنا ہو گا کہ زیورات کی یہ دو قسمیں ہندو مذہب میں عورتوں کا مذہبی شعار ہیں یا نہیں ہیں۔ اگر ہیں تو ممنوع ہے اور اگر نہیں ہیں تو محض مخصوص ڈیزائن کے زیورات اگر غیر مسلم عورتیں پہنتی ہوں تو ان کی ممانعت کی کوئی دلیل نہیں ہے

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)