فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 18125
(280) جس مسئلہ کے منع کرنے کی دلیل نہ ہو تو؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 25 December 2016 04:32 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جس مسئلہ کے منع کی دلیل موجود نہ ہووہ جائز کہا جاتا ہے  اس کے جواز کی کیا دلیل ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ کوئی قاعدہ کلیہ نہیں ہے معاملات میں اصل اباحت ہے ،تاوقتیکہ وہ معاملہ نصا یا استنبا طا ممنوع نہ ہو،اس کے اختیار کرنے میں مضائقہ نہیں۔ارشاد ہے (ما سکت عنه نهو عفو) عبادات میں سند کا ہونا ضروری ہے ،عام ازیں کہ وہ سند کلی  ہو یا جزئی عام ہو یا خاص۔یہ ایک اصولی مسئلہ ہے ۔اصول کی کتابوں کی طرف مراجعت کرکے بسط اور تفصیل معلوم کیجئے ۔

               ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری

جلد نمبر 2۔کتاب  جامع الاشتات والمتفرقات

صفحہ نمبر 538

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)